Thursday , August 16 2018
Home / ہندوستان / بینکنگ نظام پر این ڈی اے سے وائٹ پیپر کا مطالبہ

بینکنگ نظام پر این ڈی اے سے وائٹ پیپر کا مطالبہ

دوسرے بینکنگ نظام پر غور کرنے کانگریس کے ترجمان منیش تیواری کا بیان
نئی دہلی ۔ 18فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج الزام عائدکیا کہ دھوکہ باز اعلیٰ ترین ’’رنگ بدلنے والی گرگٹ ‘‘ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملک کے بینکنگ نظام کے بارے میں ایک وائٹ پیپر جاری کریں ۔ کانگریس نے کہا کہ اُس نے گذشتہ پانچ سال سے اتنا بڑا اسکینڈل نہیں دیکھا جس کی مالیت 61ہزار کروڑ روپئے تک پہنچ گئی ہے ۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ ملک کو دوسرے بینکنگ نظام پر غور کرنا چاہیئے کیونکہ بینک کے دھوکہ دہی کے واقعات بیان کی بہ نسبت زیادہ تیزی سے منظر عام پر آرہے ہیں ۔ ارب پتی جوہری نیرو مودی کے 11,400 کروڑ روپئے اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیرو مودی کے انکل میہول چوکسی نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی پر مبنی مکتوبات کے ذریعہ سرکاری ملکیت پنجاب نیشنل بینک سے حاصل کئے تے ۔ تیواری نے کہا کہ ’’ میہول چوکسی ٹینگو ‘‘ ہنوز جاری ہے ۔ اطلاعات کے بموجب ایک اور شخص وکرم کوٹھاری نے جو روٹومیک پنس کے مالک ہیں 800کروڑ روپئے انڈین بینکس کے کنسوشیم سے حاصل کئے ہیں اور اب لاپتہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بینکوں میں روزآنہ دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جب کہ ہمارے مرکزی وزیر دعویٰ کرتے ہیں کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے بموجب 61260 کروڑ روپئے گذشتہ پانچ سال کے اندر جاری کئے گئے ہیں ۔ ان پانچ سالوں میں سے چار سال بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے برسراقتدار تھی ۔ مبینہ دھوکہ بازوں اور اعلیٰ سطحی گرگٹوں سے بی جے پی کے روابط انتہائی سنگین سوالات ہندوستانی معیشت کی صحت کے بارے میں اٹھا رہے ہیں ۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی بینکنگ نظام کے بارے میں حکومت جلد از جلد وائٹ پیپر جاری کریں ۔ منیش تیواری نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو چاہیئے کہ 6بینکوں کو ہدایت دے کہ وہ اپنے اعداد و شمار شائع کریں ۔ دھوکہ بازوں کے نام بتائیں اور ان کے بارے میں تفصیلات کا انکشاف کریں ۔ علاوہ ازیں ایسے اثاثہ جات جو غیر کارکرد ہیں ان کی تفصیلات کا بھی انکشاف کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 75% فیصد غیر کارکرد اثاثہ جات صف اول کے ہندوستانی کارپوریٹ دفاتر کے ہیں اور حکومت ان کی جانچ کرنے سے قاصر ہے پھر وہ عوام کے رقم کی کیسے حفاظت کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT