Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہرعوام کا کئی گھنٹے انتظار ، دو معمر افراد کی موت

بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہرعوام کا کئی گھنٹے انتظار ، دو معمر افراد کی موت

کئی مقامات پر جھڑپیں ، رقم کی قلت کے باعث پریشان کن صورتحال ، روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل مشکل

نئی دہلی ۔ /13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اعلیٰ قدر کی کرنسی کا چلن بند کرنے کے فیصلے پر عوام کو تکالیف کا سلسلہ جاری ہے اور آج طویل قطار میں ٹھہرے دو معمر افراد کی موت واقع ہوگئی ۔ اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر عوام کی آج بھی طویل قطاریں دیکھی گیئں اور کئی مقامات پر جھڑپیں اور بحث و مباحث کے واقعات پیش آئے ۔ مدھیہ پردیش کے ساگر ٹاؤن میں ایک 69 سالہ شخص کی قلب پر حملے کے باعث موت واقع ہوگئی ۔ وہ ایک بینک کے باہر اپنی پرانی کرنسی تبدیل کرنے کیلئے قطار میں کھڑا ہوا تھا ۔ پولیس انسپکٹر وی ایس چوہان نے بتایا کہ ونئے کمار پانڈے کے قلب پر حملے سے موت واقع ہوگئی ۔ ایک اور واقعہ گجرات کے ضلع سریندر نگر میں پیش آیا جہاں 69 سالہ مانسوکھ درجی جو بینک کے باہر قطار میں ٹھہرا تھا اچانک قلب پر حملے کے باعث گرپڑا ۔

اسے دیگر افراد نے جو قطار میں موجود تھے مقامی ہاسپٹل پہونچایا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی ۔ ملک بھر میں بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر طویل قطاریں دیکھی گیئں اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔ کئی مقامات پر ان کی جھڑپ بھی ہوئی کیونکہ اکثر بینکوں اور اے ٹی ایم میں نقد رقم موجود نہیں تھی ۔ کل گرونانک جینتی کے باعث بینکس بند رہیں گے ۔ اس لئے آج عوام نقد رقم کے تبادلے کیلئے بینکوں پر امڈ پڑے تھے ۔ مغربی اترپردیش کے مظفر نگر میں عوام کی بینک ملازمین سے جھڑپ ہوگئی اور انہوں نے سرجو ویلیج میں واقع بینک کی شاخ پر سنگباری کی ۔ جس کے نتیجہ میں تین افراد بشمول ایک خاتون زخمی ہوگئے ۔ قومی دارالحکومت دہلی میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بینکوں و اے ٹی ایم کے باہر اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وہ نقد رقم کے انتظار میں کئی گھنٹے کھڑے رہے ۔مشرقی دہلی، جنوبی دہلی اور وسطی دہلی کے کچھ حصوں میں بزرگ اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں لوگ طویل طویل لائنوں میں کھڑے ہوئے دیکھے گئے ۔ بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو معمول پر لانے میں کم از کم سات سے آٹھ دن لگ جائیں گے ۔ایک مشہور آئی ٹی کمپنی کے ملازم جگت سنگھ نے کہاکہ” آج چھٹی کا دن ہے لیکن وہ دوسرے ضروری کاموں کو چھوڑ کر یہاں لائن میں لگے ہیں۔

ضرورت کے سامان خریدنے کے لئے میرے پاس نقد رقم نہیں ہے “۔ملک کے کئی علاقوں میں متعدد اے ٹی ایمس آج بھی بہتر انداز میں کام نہیں کرسکے۔ کئی اے ٹی ایمس اور بینکوں سے عوام کو مایوسی کے ساتھ خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔حکومت نے بھی قبول کیا کہ نوٹ بندي سے عام لوگوں کو پریشانیاں ہورہی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کل کہا کہ ریزرو بینک کے پاس کافی مقدار میں نئے نوٹ ہیں، لیکن اے ٹی ایم مشینوں میں ان کے موافق ضروری تکنیکی تبدیلی کرنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے 8 نومبر کی درمیانی شب سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کر دیا تھا۔ ان نوٹوں کو بدلوانے کے لئے لوگوں کو 30 دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے ۔ اس مدت میں لوگ چار ہزار روپے تک کے نوٹ اپنی شناخت بتا کر بینکوں اور ڈاک خانوں میں بدلوا سکتے ہیں۔ اکاؤنٹس میں رقم جمع کرنے کی کوئی حد نہیں ہے لیکن جمع کرنے والے کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد لوگوں کو اپنی روز مرہ کے اخراجات پورا کرنے میں دقتیں آرہی ہیں۔ گزشتہ چار دنوں سے نوٹ بدلوانے کے لئے بینکوں پر صبح سے ہی لوگوں کی کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ اے ٹی ایم پر بھیڑ کی وجہ سے بھی لوگ پریشان ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT