Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بینکوں اور پوسٹ آفسوں پر عوام کی طویل قطاریں

بینکوں اور پوسٹ آفسوں پر عوام کی طویل قطاریں

شدید مشکلات کا سامنا، کئی بینکس دوپہر میں ہی بند ، حکومت کے اچانک اقدام پر برہمی
حیدرآباد۔10نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں آج بینکوںو پوسٹ آفس کے ذریعہ منسوخ کردہ 1000اور 500کے نوٹوں کی تبدیلی اور بینکوں میں ڈپازٹ کے لئے طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ حکومت ہند کی جانب سے 8نومبر کی درمیانی شب سے 1000اور 500کے نوٹوں کا چلن بند کردیئے جانے کے بعد ایک یوم بازار سنسان رہے لیکن آج ملک میں 1000کے نوٹوں کی تقسیم اور بینکوں و پوسٹ آفسوں کے ذریعہ پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے دوران زبردست گہما گہمی دیکھی گئی۔ دونوں شہروں اور ریاست کے مختلف اضلاع میں نوٹوں کی تبدیلی کیلئے آدھار کارڈ وغیرہ کیلئے زیراکس کی دکانات پر بھی کافی ہجوم دیکھا گیا۔ شہر میں کئی بینکوں نے آج 500روپئے کے نوٹ جاری نہیں کئے بلکہ 2000کے نئے نوٹ صبح کی اولین ساعتوں سے ہی بازارو ںمیں پہنچنے لگے تھے کیونکہ خانگی بین الاقوامی بینکوں نے اپنے خدمات کے اوقات کار میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو سہولت پہنچانے کے اقدام کر دیئے تھے۔کئی بینکوں کے باہر صبح 6بجے سے ہی طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ شہر کے چند قومیائے ہوئے بینکوں کے علاوہ دیگر بینکوں نے لنچ کے وقفہ کے بعد یہ اعلان کردیا کہ نقد رقومات ختم ہونے کے سبب نوٹوں کی تبدیلی کا عمل آگے نہیں بڑھ پائے گا اسی لئے چند ایک بینک وقت سے پہلے بند کردیئے گئے۔ نقد رقومات کی تبدیلی کیلئے پہنچنے والے عوام نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ بینک کے عہدیدار کرنسی کی تبدیلی کے بجائے رقومات جمع کروانے کیلئے پہنچنے والوں پر توجہ دے رہے تھے جس کے سبب انہیں کافی دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ بینک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نقد رقومات کی تبدیلی کیلئے اضافی کاؤنٹر لگائے گئے تھے اور ڈپازٹ کی وصولی کیلئے حسب معمول عملہ خدمات انجام دے رہا تھا۔ بینک کاری نظام سے اچانک کروڑہا عوام کے بیک وقت خدمات حاصل کرنے کی کوشش کے سبب یہ دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں ان دشواریوں کو اندرون ایک ہفتہ دور کرلئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہرکے بعض پوسٹ آفس پر رقومات نہ ہونے کے سبب پوسٹ آفس نے رقومات جمع کرلئے اور ان رقومات کی رسائد جاری کرتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ نئے کرنسی نوٹ یا دیگر کرنسی میں تبدیل کرنے کا تیقن دیا۔ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی مختلف شاخوں کے علاوہ کنارا بینک‘ سنڈیکیٹ بینک‘آئی سی آئی سی آئی ‘ ایچ ڈی ایف سی اور دیگر بینکوں نے شہریوں کے لئے خصوصی انتظامات کئے تھے۔ محکمہ ٔ پولیس نے تمام بینکوں کے پاس خصوصی انتظامات کئے تھے جس کے سبب نظم و ضبط کی صورتحال قابو میں رہی۔ کرنسی کی تبدیلی کیلئے جاری کردہ فارمس کی بلیک فروخت دیکھی گئی جبکہ اس فارم کی مفت تقسیم ہونی چاہئے تھی۔ بینک کی شاخوں میں طویل قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کر رہے گاہکوں نے حکومت کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح فوری کاروائی سے ممکن ہے عوام کو فائدہ ہو لیکن سہولت کی فراہمی کے بغیر کی جانے والی کاروائی سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بینک سے رقومات منہا کرنے والوں کو رات دیر گئے اے ٹی ایم کھل جانے کے بعد تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ 2000کی نوٹ کی اجرائی کے بعد لوگوں کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے گئے اور سوشیل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس پر لوگوں نے نوٹ حاصل کرنے کے بعد نوٹ کیساتھ اپنی تصاویر اپ لوڈ کیں۔

TOPPOPULARRECENT