Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بینکوں سے قرض کی اجرائی میں اقلیتوں کیساتھ ناانصافی

بینکوں سے قرض کی اجرائی میں اقلیتوں کیساتھ ناانصافی

تاریخی عمارتوں کی نگہداشت میں لاپرواہی، احمد بلعلہ کا ایوان میں الزام
حیدرآباد۔/24مارچ، ( سیاست نیوز) مجلس کے رکن اسمبلی احمد بلعلہ نے بینکوں کی جانب سے قرض کی اجرائی میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے اور ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ مکہ مسجد کے بشمول تاریخی عمارتوں کی نگہداشت کو نظرانداز کرنے پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ آج اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے مطالبات زر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے احمد بلعلہ نے شادی مبارک اسکیم کو 51ہزار سے بڑھاکر 75ہزار کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک لاکھ روپئے کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ آسرا وظائف میں اضافہ کرنے کی ستائش کرتے ہوئے وقت پر اجرائی کو یقینی بنانے پر زوردیا۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات فوری جاری کرنے، ڈبل بیڈ روم مکانات جلد از جلد تعمیر کرنے، ائمہ و موذنین کے معاوضہ میں اضافہ، اقلیتوں کی صنعتی ترقی کیلئے ٹی ایس پرائم شروع کرنے کا خیرمقدم کیا اور اقلیتی بجٹ میں مزید 250 کروڑ کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد میں اضافہ کرنے کی ستائش کی۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ کرنے پر زور دیا۔مکہ مسجد کے علاوہ یونانی ہاسپٹل کی تاریخی عمارت کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ بجٹ سیشن کے دوران ہی ماہ رمضان کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس طلب کرنے کی مانگ کی۔ احمد بلعلہ نے کہا کہ غریب اقلیتی بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے حکومت نے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے تعاون سے 80 فیصد سبسیڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بینکوں کو صرف 20فیصد قرض جاری کرنا ہے اس کے لئے بھی بینکوں کی جانب سے اقلیتوں کو قرض جاری نہیں کیا گیا۔ سارے بینکوں کی جانب سے ایک فیصد بھی قرض اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جاری نہیں کیا گیا، حکومت اس کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو قرض جاری نہ کرنے والے بینک عہدیداروں کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔ نئے 21 اضلاع میں اردو کو اہمیت دی جائے اور تمام اضلاع میں محکمہ اقلیتی بہبود کا آفس قائم کیا جائے اور محکمہ اقلیتی بہبود میں مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT