Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / بینکوں سے متعلق نئی قانون سازی پر افواہوں کا بازار گرم

بینکوں سے متعلق نئی قانون سازی پر افواہوں کا بازار گرم

کھاتہ دار بینکوں سے رقم نکالنے ٹوٹ پڑے ، عوام اور بینکس میں افراتفری
حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) نوٹ بندی کے اعلان کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی لوگوں میںخوف او ردہشت ابھی ختم نہیںہوئی ہے۔ گذشتہ سال8نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کیاتھا ۔ وزیراعظم کا یہ اعلان عوام کے لئے غیرمتوقع تھا جس کے بعد لوگ وحشت کے عالم میںاپنے پرانے نوٹوں کو بدلنے یا پھر بینکوں میںجمع کرانے کے لئے گھنٹوں‘ ہفتوںاو رکئی دنوں تک قطار میںکھڑے رہے ۔ اسی دوران طرح طرح کی افواہوں نے پریشان لوگوں کی مشکلات میںاور بھی اضافہ کردیاتھا۔افواہوں کاسلسلہ یہیں پر ختم نہیںہوا کیونکہ اب مختلف خبریں گشت کررہی ہیںجس میں یہ دعوی کیاجارہا ہے کہ عنقریب دو ہزار روپئے کے نئے نوٹ بند کردئے جائیں گے ۔ان دنوں یہ خبر تیزی کے ساتھ گشت کررہی ہے کہ بینکوں میںرکھا ہوا پیسہ لوگوں کو نہیں ملے گا ۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی پرانے شہر کی مختلف بینکوں میںاپنی جمع رقم واپس لینے کے لئے عوام کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ خانگی بینکوں سے زیادہ قطاریں سرکاری بینکوں میںدیکھی گئی ہیں۔ کیونکہ عوام کو حکومت بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اس ضمن میںکسی بھی غیر متوقع فیصلے کا خدشہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نور خان بازار منیجر سبرامنیم سے اس ضمن میں بات کی تو انہو ںنے کہاکہ حالیہ دنوں میں حکومت ہند کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے کہ خسارہ شدہ بینکوں میں رکھی رقم کا جو نقصان ہوگا اس کی بھرپائی حکومت ہند نہیںکریگی اور اس ضمن میںحکومت ہند ایک قانون بھی بنانے کی تیاری کررہی ہے ۔ سبرامنیم کا کہنا ہے کہ یہ خبر اخباروں میںشائع ہونے او رٹیلی ویثرن پر دکھائے جانے کے بعد لوگ بدحواسی کے عالم میں بینکوں میںرکھی اپنی رقم نکالنے کی کوشش کررہے ہیںجبکہ حکومت کا یہ اعلان سرکاری نہیںان خانگی بینکوں کی طرف اشارہ تھا جو خسارے میںچل رہی ہیں۔نور خان بازار برانچ منیجر نے کہاکہ اس کے باوجود تین کروڑ کے قریب لوگوں نے مذکورہ برانچ سے رقم نکال لی ہے۔ ایس بی آئی برانچ میرعالم منڈی منیجر رام گوپال سے پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے تفصیلات بتانے میںٹال مٹول کی تاہم اسرار پر انہوں نے بتایا کہ اب تک ان کے برانچ سے دو تا ڈھائی کروڑ روپئے کی رقم نکال لی گئی ہے۔سبرامنیم کا کہنا ہے کہ بینک کے کھاتہ دارافواہو ں کی وجہہ سے پریشانی کے عالم میںبینک میںجمع رقم واپس طلب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس یومیہ لین دین کی مناسبت سے نقد رقم منگائی جاتی ہے مگر کھاتہ داروں کے اسرار کی وجہہ سے ہم ان کے پیسوں کی یکسوئی نہیںکر پارہے ہیںجس کی وجہہ سے کھاتہ داروں کے اندر بے چینی بڑھتی جارہی ہے ۔ ایس بی آئی کی میرعالم برانچ کی ایک کھاتہ دار خاتون نے بتایا کہ جمعرات کے روز ان کے پاس بیٹی کی منگنی ہے اور وہ بینک میں جمع رقم سے ڈھائی لاکھ روپئے نکالنے کے لیے آئی ہیں مگر بینک میں نقدی کی کمی کے سبب بینک منیجر پیسے نہیں دے رہے ہیں اور صرف تیس ہزار روپئے پر اکتفاء کرنے کا اسرار کررہے ہیں ۔ خاتون نے منیجر سے عاجزی منت کی جس کے بعد منیجر نے ایک روز بعد رقم ادا کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ اسی طرح کا حال دیگر برانچوں کا بھی ہے جہاں پر کھاتہ دار بینکوں میں جمع اپنی رقم واپس لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوئے ہیں ۔ بینک انتظامیہ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی عوام کو بھروسہ نہیں ہورہا ہے کہ بینکوں میں رکھے ان کے پیسے محفوظ ہیں ، کئی بینکوں میں کھاتہ داروں کی بڑھتی بھیڑ کے پیش نظر بینک احاطے میں پولیس متعین کردی گئی ۔ کئی مقامات پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی تصویر کشی یا ویڈیو گرافی سے بینک انتظامیہ روکنے کی بھی کوشش کرتا ہوا دکھائی دیا ۔ اس طرح کی افواہوں سے جہاں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہیں پر بینک انتظامیہ کو بھی اپنے کھاتہ داروں کو بھروسہ دلانے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شہر کی بینکوں میں ایسی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایک سال قبل نوٹ بندی کے اچانک اعلان کی وجہ سے عوام کو جو صدمہ ہوا تھا اس سے لوگ ابھی بھی باہر نہیں نکلے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT