Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / بینکوں کو سنبھلنے 18 ہزار کروڑروپئے درکار

بینکوں کو سنبھلنے 18 ہزار کروڑروپئے درکار

ممبئی۔19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) آر بی آئی نے جب سے بینک کھاتوں میں مقررہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست پیش کی ہے تب سے بینکوں کے نفع اور ان کی افادیت کے تعلق سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی بینکوں کو کم از کم 18 ہزار کروڑ روپئے کی اضافی رقم درکار ہے تاکہ ان کے امور پہلے کی طرح سنبھل جائیں۔ یہ انڈیا ریٹنگس کا تجزیہ ہے جو گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے بینکوں کو ضروری اقدامات کی اجازت دیئے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا کہ لوہا اور فولاد کے شعبہ کو 10,500 کروڑ روپئے اور انفراسٹرکچر کے شعبہ کو 4,100 کروڑ روپئے کی اضافی مدد درکار ہے۔ اوسط جسامت کے سرکاری بینکوں کو کچھ مدت کے لیے نفع اور نقصان کے تناسب میں اتھل پتھل کی صورتحال کا سامنا رہے گا اور بعد میں حالات سنبھلنے کی امید ہے۔

گوپال گاندھی کی حمایت پر بنگال سی پی ایم کا ایک گوشہ ناراض
کولکاتا،19جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال سی پی ایم کا ایک بڑا طبقہ پارٹی قیادت کے ذریعہ نائب صدر کے انتخاب میں بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی کی حمایت کرنے سے ناخوش ہے ۔گاندھی نے سنگور اور نندی گرام میں سی پی ایم کے رول پر سخت تنقید کی تھی۔ ریاستی کمیٹی کے کئی قائدین اور بنیادی سطح کے ورکروں میں گوپال گاندھی کی حمایت کئے جانے سے خوشی نہیں ہے۔کئی قائدین نے پارٹی فورم میں اس پر ناراضگی درج کرائی ہے اور کئی دیگر نے سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھ کر اختلاف کا اظہار کیا ہے ۔گوپا ل گاندھی جب بنگال کے گورنر تھے اس وقت میں انہوں نے ٹاٹا موٹرس کے نینو کار پراجیکٹ کیلئے سنگور میں جبراً حصول اراضی کی سخت مخالفت کی تھی۔ ان کے اس موقف سے ترنمول کانگریس کو فائدہ پہنچا تھا۔ریاستی کمیٹی کے ایک ممبر نے کہا کہ مجھے اس کا اندازہ نہیں ہے کہ پارٹی قیادت نے ایسا کیوں کیا ہے۔ پہلے کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا گیا اور اب گوپال کرشن گاندھی کی حمایت کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT