Tuesday , August 21 2018
Home / ہندوستان / بینک اسکامس میں ملازمین کا اصل ہاتھ

بینک اسکامس میں ملازمین کا اصل ہاتھ

تین سال کے دوران 2450 کروڑ روپئے کا نقصان، ریزرو بینک آف انڈیا کا ڈیٹا
بنگلورو ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پنجاب نیشنل بینک میں بڑے پیمانے کے اسکامس کے منظر عام پر آنے کے بعد اس طرح کے کئی اسکامس بھی سامنے آرہے ہیں۔ پبلک سیکٹر بینکوں کے ملازمین بھی بینک اسکامس میں ملوث پائے گئے ہیں۔ برسوں سے ہمہ رخی دھوکہ دہی کے واقعات میں بینک ملازمین کا اہم رول رہا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کو موصولہ ڈیٹا کے مطابق بینک اسکام کے متعدد کیس میں بینک کا عملہ کی ملوث پایا گیا ہے۔ مختلف ریاستوں سے موصولہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہیکہ اپریل 2013ء سے جون 2016ء کے دوران 2450 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی ہوئی ہے۔ ایک لاکھ روپئے کے 1232 دھوکہ دہی کے کیسیس سامنے آئے ہیں اور ان اسکامس میں بینک کے ملازمین ہی ملوث ہیں۔ آر بی آئی نے ریاستی اساس پر ڈیٹا کی تیاری شروع کی ہے۔ جن ریاستوں میں بینک اسکامس ہوئے ہیں ان میں جنوبی ریاستوں کے علاوہ مہاراشٹرا بھی شامل ہیں۔ ٹاملناڈو، آندھراپردیش، کرناٹک میں سب سے زیادہ بینک اسکامس اور دھوکہ دہی کے واقعات ہوئے ہیں جبکہ راجستھان، چندی گڑھ، دہلی اور مغربی بنگال میں رقومات کا خسارہ ہوا ہے۔ آر بی آئی نے بینک کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ دھوکہ دینے والوں میں باہر کے لوگوں سے زیادہ خود بینک کے ملازمین ملوث ہیں۔ بینک کا عملہ، آفیسرس مل کر اسکامس کرتے ہیں لیکن ان کیسوں کو ملازمین کی دھوکہ دہی کے چھوٹے کیسوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دھوکہ دہی کروڑہا روپئے میں بھی ہوسکتی ہے۔ ایک بینک منیجر، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی، کہا کہ جنوبی ہند میں اس طرح کئی کیسیس سامنے آئے ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں بینک کی کئی شاخیں ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان بینکوں میں سب سے زیادہ بڑے جرم ہوتے ہیں خاص کر ان اسکامس میں بینک کا عملہ ہی ملوث ہوتا ہے۔ راجستھان میں سب سے زیادہ دھوکہ دہی ہوئی ہے۔ جب رقم قرض کے طور پر لی جاتی ہے تو قرض منظور کرانے میں بینک ملازمین کا اہم رول رہتا ہے۔ بینک ملازمین میں بینک امور سے نمٹنے کی نااہلیت کی وجہ سے بھی یہ دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب نیشنل بنک میں نیرومودی کے کروڑہا روپئے کے اسکامس کے بعد ملک بھر میں دیگر بینکوں میں بھی ہونے والے اسکامس منظر عام پر آرہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT