Saturday , November 25 2017
Home / آپ کے سوال / بینک انٹرسٹ اور ٹیکس کی ادائیگی

بینک انٹرسٹ اور ٹیکس کی ادائیگی

سوال :  سود سے متعلق ایک مسئلہ دریافت طلب ہے کہ بینک فکسڈ ڈپازٹ کی ہوئی رقم پر سود دیتا ہے، بعض علماء کے نزدیک یہ حرام ہے اور بعض کے نزدیک اس کے حلال ہونے میں اختلاف ہے۔
بعض علماء کے نزدیک جو سود بینک سے ملتاہے اس سے پراپرٹی ٹیکس، سیلس ٹیکس ویلتھ ٹیکس اس قسم کے ٹیکس جو حکومت کی طرف سے جبراً عائد کئے جاتے ہیں، حکومت کو ادا کئے جاسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص خوش دلی سے ایسے ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ عدم ادائیگی کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس سود کی رقم سے ایسے ٹیکس کی ادائیگی کی گنجائش نکل سکتی ہے ؟
قاری محمد اقبال ، سکندرآباد
جواب :  ربو (سود) نص قطعی سے حرام ہے۔ ارشاد الٰہی ہے۔ الذین یاکلون الربوالایقومون الا کسایقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوا۔ و احل اللہ البیع و حرم الربو فمن جائہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ما سلف و امرہ الی اللہ و من عاد فاولئک أصحب النار ھم فیھا خلدون (سورۃ البقرۃ 275/2 )
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) ایسے اٹھیں گے جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جس نے حواس کو شیطان کے چھونے کی وجہ سے کھودیا ہو (جس کے اثرات ہوں) یہ حالت اس وجہ سے ہوگی کہ انہوں نے کہا کہ سود لینا خرید و فروخت کے مانند ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ جس کو اللہ کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو اس کیلئے وہ ہے جو پہلے گزرچکا (حروف سے پہلے) اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو سود کا معاملہ کرے تو وہ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ سود کو حلال سمجھنا کفر ہے ، اس کے حرام ہونے کا علم رکھتے ہوئے سودی لین دین کرنا فسق و فجور ہے ، اس کا مرتکب ، گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔ فی الفور اس پر توبہ کرنا لازم ہے ۔ تاہم سود کی کافی تفصیلات ہیں، اس کے احکام قدرے پیچیدہ ہیں، ائمہ اربعہ کے درمیان سود کے متعدد احکام میں رائے کا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ منجملہ ان اختلافات کے ایک اہم مسئلہ غیر اسلامی ملک میں سود کے لین دین سے متعلق ہے۔ حدیث شریف میں ہے : ’’لاربو بین المسلم والحربی فی دارالحرب ‘‘ ترجمہ دارالحرب میں مسلمان اور کافر کے درمیان سود متحقق نہیں ہوتا۔
متذکرہ حدیث شریف کی صحت اور عدم صحت کے بابت ائمہ و محدثین میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ جمبور احناف نے اس حدیث شریف کو قابل صحت قرار دیا جبکہ دیگر ائمہ نے اس کی سند میں کلام کے باعث اس سے استدلال نہیں کیا۔
پس احناف کے نزدیک بنیادی طور پر ملک کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایسا ملک جہاں شریعت اسلامی کا نفاذ ہو وہ ملک جہاں شریعت اسلامی نافذ نہ ہو۔ پہلے ملک کو وہ دارالاسلام سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسری قسم کے ملک کو جہاں اسلامی احکام نافذ العمل نہ ہوں’’دارالحرب‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لہذا احناف کے نزدیک متذکرہ حدیث شریف کی رو سے غیر ا سلامی ملک میں مسلمان اور  غیر مسلم کے درمیان سود متحقق نہیں ہوتا ۔ یعنی اگر کسی مسلمان کو غیر اسلامی ملک کے  غیر مسلم باشندہ یا غیر مسلم زیر انتظامیہ ادارہ سے کسی دھوکہ و فریب کے بغیر کوئی مالی منفعت ہو تو یہ مالی منفعت مسلمان کے حق میں مباح ہے۔ مثال کے طور پراگر وہ غیر اسلامی ملک میں کسی غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلائے جانے والے ادارہ میں کچھ رقم جمع کرواتا ہے اور وہ ادارہ اپنے قواعدہ مقررہ کے مطابق اس پر کچھ زائد رقم دیتا ہے تو وہ زائد رقم مسلمان کے حق میں مباح و جائز ہے ۔ ائمہ اربعہ میں یہ جمہور احناف کا مذہب ہے ۔ اس مسئلہ میں ہندوستان کے حنفی دینی مدارس و جامعات میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے ۔ اختلاف اس بارے میں ہے کہ ہندوستان پر ’’دارالحرب‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں جن علماء کے نزدیک ہندوستان پر دارالحرب کا اطلاق ہوتا ہے ، ان کے نزدیک ہندوستان میں  غیر مسلم زیر انتظامیہ بینک سے ملنے والی زائد رقم پر سود کا اطلاق نہیں ہوتا اور جن علماء کے نزدیک ہندوستان پر ’’دارالحرب‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا وہ بینک انٹرسٹ کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ’’حرب‘‘ کے معنی جنگ کے ہیں لیکن دارالحرب کی اصطلاح میں جنگ کا جاری رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص اصطلاح ہے جو غیر مسلم ملک کیلئے دارالاسلام کے مقابل میں وضع کی گئی ہے ۔ ہندوستان میں چونکہ شریعت کا نفاذ نہیں ہے اور اس کو کوئی دارالاسلام نہیں کہہ سکتا تو لا محالہ ہندوستان کا غیر ا سلامی ملک ہونا ثابت ہوا۔ اس لئے جمہور احناف کے مطابق ہندوستان میں  غیر مسلم زیر انتظامیہ بینک سے جمع شدہ رقم پر زائد رقم حاصل ہو تو یہ جائز ہے ۔ اس کو لیا جاسکتا ہے ۔ مخفی مبادکہ دیگر ائمہ اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔ اب اگر کوئی علماء کے درمیان پائے جانے والے اس اختلاف کی بناء بینک سے حاصل ہونے والے زائد مال کو اپنے نفس پر خرچ نہ کرے اور اس کو حکومت کی جانب سے عائد ٹیکس وغیرہ ہمیںادا کردے تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
نوٹ : حیدرآباد میں سود کی لعنت عام ہوتی جارہی ہے ، سود کے کاروبار کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مسلمان جھوٹی شان و شوکت کی خاطر بینک سے سود لیکر شادی بیاہ میں خرچ کر رہے ہے ں۔ یہ صد فیصد حرام ہے ۔ اس میں کوئی کلام نہیں، سود کا لینے اور دینے والا دونوں لعنتی اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں۔ علمی اختلاف کی بناء حاصل ہونے والی رعایت کا غلط مفہوم اخذ کرنا اور مسلمان کا مسلمان کو سود پر قرض کے لین دین یا مسلمان کا غیر مسلم سے سود پر قرض لینا دونوں ناجائز و حرام ہیں۔

خضاب لگانا
سوال : سفید بالوں کو کالا خضاب لگانا جائزہے یا نہیں ؟ خضاب لگانے سے وضو اور غسل ہوتا ہے یا نہیں ؟
عمر جنیدی، ناگرجنا ساگر
جواب :  شریعت اسلامی میں خضاب کے استعمال کی ترغیب ہے ۔ تاہم کالا خضاب سے بچنے کا حکم ہے ۔ مسلم میں حدیث شریف ہے کہ فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکر صدیق کے والد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا جبکہ آپ کے بال نہایت سفید تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بالوں کو خضاب لگانے کا حکم دیا اور کالے خضاب سے بچنے کی تلقین کی ۔ لہذا کالے خضاب کے علاوہ دوسرے خضاب مثلاً ’’حنا وغیرہ کا استعمال شرعاً پسندیدہ ہے اور عام مشائخ احناف نے بیوی کی خاطر کالے خضاب کے استعمال کو بھی مکروہ پر معمول کیا ہے ۔ خضاب کے اجزاء ترکیبی میں کوئی حرام چیز ملی ہوئی نہ ہو تو وضو اور غسل میں کوئی کلام نہیں ۔ وضو اور غسل ہوجائیں گے اور اگر حرام اجزاء شامل ہوں تو تین مرتبہ اچھی طرح پورے سر کو دھونا لازم ہوگا۔

طواف وداع
سوال :  اس سال میں حج تربیتی کیمپ میں شریک رہا جس میں ایک مولانا نے مناسک حج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مناسک حج سے فراغت کے بعد طواف وداع کرنا واجب ہے ۔ میں اس سال اپنے بڑے لڑکے کے ساتھ حج کو جارہا ہوں۔ پانچ سال قبل جب میں اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کیا تھا تو ہم دونوں نے بھی طواف وداع نہیں کیا تھا تو اب ایسی صورت میں ہمارا یہ حج ادا ہوا یا نہیں۔ جب سے مجھے یہ مسئلہ معلوم ہوا ہے ۔ میں اور میری اہلیہ بہت بے چین ہیں اور یہاں طواف نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میری اہلیہ مناسک حج کے بعد ناپاکی کی حالت میں آگئی تھیں جس کی وجہ سے ہم جدہ آگئے تھے اور یہیں سے ہم حیدرآباد واپس ہوگئے ۔ براہ کرم اس کا جواب جلد سے جلد دیں۔
نام مخفی
جواب :  احناف کے پاس طواف وداع واجب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ من حج ھذا البیت فلیکن آخر عھدہ بہ الطواف (بخاری) پس جوشخص اس گھر کا حج کرے تو اس کا آخری کام طواف ہونا چاہئے۔ بناء بریں فقہاء نے طواف وداع کو واجبات حج میں شامل کیا ہے اور اگر کوئی واجب ترک ہوجاتاہے تو اس کی تلافی ’’ دم‘‘ (قربانی) سے ہوتی ہے ۔ لہذا اس سال آپ حج کو جارہے ہیں تو آپ کی طرف سے جو طواف وداع ترک ہوا اس کے لئے آپ حدود حرم میں ایک بکری قربانی دیدیں۔انشاء اللہ اس کی تلافی ہوجائے گی ۔اب رہا آپ کی اہلیہ نے بھی طواف وداع نہیں کیا لیکن وہ پاکی کی حالت میں نہیں تھی تو ایسی عورتوں پرطوافِ وداع کا وجوب نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو ناپاکی کے عذر کی بناء طواف وداع سے رخصت دی ہے ۔ مسند امام احمد بن حنبل (370/1 ) میں ہے ۔ رخص للنساء الحیض ترک طواف الصدر لعذر الحیض) لہذا آپ کی اہلیہ  پر طواف وداع واجب ہی نہیں رہا۔

دوران حج عورت ایام میں کیا کرے ؟
سوال :  عورت اپنی ماہواری میں نماز ادا نہیں کرتی اور رمضان ہو تو روزے نہیں رکھتی، روزوں کی قضاء کرتی ہے ، حج کے دوران عورت کے ایام شروع ہوجائیں تو اسے کیا کرنا چاہئے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمالیں ؟
محمد مزمل احمد، وجئے نگر کالونی
جواب :  مناسک حج ادا کرنے کے دوران عورت کے ایام آجائیں تو حج کے تمام ارکان ادا کرسکتی ہے۔ البتہ مسجد حرام میں داخل نہ ہو اور طواف نہ کرے جیسا کہ صحیح بخاری شریف ج: 1 ص: 223 میں ہے ۔ ’’ عن عائشۃ انھا قالت قدمت مکۃ  وانا حائض ولم اطف بالبیت ولا بین الصفا والمروۃ قالت فشکوت ذلک الی رسول اللہ صلی علیہ وسلم فقال افعلی کما یفعل الحاج غیر ان لا تطوفی بالبیت حتی تطھری ۔
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں : میں مکہ مکرمہ آئی جبکہ میں ایام میں تھی میں نے بیت اللہ شریف کا طو اف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں، میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معروضہ کی تو آپ نے فرمایا جو حاجی کرتے ہیں وہ کرتی رہو مگر بیت اللہ کا طواف مت کرو جب تک کہ پاک نہ ہوجاؤ۔
لہذا عورت صرف مسجد حرام نہ جائے اور طواف نہ کرے، اس کے سوا منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ جائے ، رمی ، جمار ، قربانی اور باقی تمام امور انجام دے۔ اگر دس ، گیارہ ، بارہ ذی الحج کے دوران کبھی بھی ایام ختم ہوجائیں۔ بارہ کے غروب آفتاب سے پہلے تک طواف زیارت کرنے کی گنجائش ہے ۔ بارہویں کے غروب آفتاب کے بعد ایام ختم ہوں تو دم حیض منقطع ہوتے ہی غسل کر کے طواف زیارت کرلے تاخیر کرنے کی صورت میں دم واجب ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT