Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / بینک سبسیڈی سے متعلق تمام زیر التواء درخواستوںکو بند کرنے حکومت کا فیصلہ

بینک سبسیڈی سے متعلق تمام زیر التواء درخواستوںکو بند کرنے حکومت کا فیصلہ

نئی درخواستوں کی جلد طلبی،سلائی مشینوں کی تقسیم میں بے قاعدگیوں پر برہمی، ہر ضلع میں ایک کمپیوٹر سنٹر ، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ 16۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ تعلیم اور معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے اور انہوں نے بجٹ کی عاجلانہ اجرائی کے سلسلہ میں وزیر فینانس سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اقلیتی فینانس کارپوریشن اور ڈائرکٹوریٹ آف میناریٹی ویلفیر کے تحت عمل کی جارہی اسکیمات کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا ۔ اسکالرشپ، فیس بازادائیگی، اوورسیز اسکالرشپ ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم ، ٹریننگ ایمپلائمنٹ ، کمپیوٹر سنٹرس کا قیام اور خواتین میں سیونگ مشینوں کی تقسیم جیسے امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین ، حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ ، ڈپٹی چیف منسٹر کے ایڈیشنل پرائیوٹ سکریٹری محمد اسد اللہ کے علاوہ دیگر عہدیدار موجود تھے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سبسیڈی سے متعلق اسکیم کی زیر التواء تمام درخواستوں کو بند کردیا جائے اور نئی درخواستیں طلب کی جائیں۔ واضح رہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو سبسیڈی اسکیم کیلئے ایک لاکھ 53 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور کارپوریشن نے ابھی تک صرف 20 ہزار درخواستوں کی یکسوئی کی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیر التواء تمام درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور انہیں کالعدم تصور کرتے ہوئے امیدواروں سے نئی درخواستیں طلب کی جائیں گی ۔ درخواست کے ادخال کے پروگرام کا جلد اعلان کیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ نئی درخواستوں کی یکسوئی کا کام اندرون ایک ماہ مکمل کرلیں۔ عہدیداروں نے مختلف اسکیمات پر عمل آوری کی تفصیلات سے واقف کرایا اور کہا کہ بجٹ کی اجرائی کے اعتبار سے اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بینکوں سے مربوط کئے بغیر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ صد فیصد سبسیڈی کی اجرائی اسکیم متعارف کی جائے گی۔ چیف منسٹر سے مشاورت کے بعد اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ مائیکرو فینانس اسکیم کے تحت صرف ایسے افراد کو قرض جاری کئے جائیں گے جو تجارت کرتے ہیں ۔ قرض کی اجرائی کے بعد کاروبار اور استفادہ کنندہ کی سرگرمیوں کا وقفہ وقفہ سے جائزہ لیا جائے گا ۔ اگر وہ اسکیم کے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں تو ان سے مکمل رقم ریکور کرلی جائے گی ۔ عہدیداروں نے اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے رضاکارانہ تنظیموں سے تعاون حاصل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اضلاع میں رضاکارانہ تنظیمیں کامیابی سے اس اسکیم پر عمل کر رہی ہیں اور غریب اقلیتی افراد کو کاروبار کے لئے قرض جاری کیا جارہا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ رضاکارانہ تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اسکیم کو قطعیت دی جائے۔ محمود علی نے ایم ایس ڈی پی اسکیم کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس کو جاری کی گئی رقومات پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تلنگانہ میں 43 کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس کام کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس کی تعداد گھٹاکر 31 کرنے کی ہدایت دی اور ہر ضلع میں ایک سنٹر رہے گا جسے عصری کورسس سے آراستہ کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے کہا کہ بہت جلد ریاست کے 7 کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنایا جائے گا اور حیدرآباد میں سنتوش نگر علاقہ میں واقع کمپیوٹر سنٹر کو کارکرد کیا جارہا ہے ۔ سلائی مشینوں کی تقسیم کا جائزہ لیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے ہر مشین پر حکومت کا لوگو شائع کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ حقیقی مستحقین میں سلائی مشین تقسیم کئے جائیں۔ انہوں نے مشینوں کی تقسیم کے سلسلہ میں بعض بے قاعدگیوں پر برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیلئے تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ چیف منسٹر سے منظوری حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے خواہاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT