Friday , April 27 2018
Home / اداریہ / بین الاقوامی عدالت انصاف

بین الاقوامی عدالت انصاف

بن کے غمخوار جو آیا تھا تصُّور تیرا
ہوکے خود وہ بھی مرے دَرد میں شامل تڑپا
بین الاقوامی عدالت انصاف
بین الاقوامی عدالت انصاف ( آئی سی جے ) میں ہندوستان کے جسٹس دلیور بھنڈاری کا دوبارہ انتخاب ایک سفارتی کامیابی سمجھی جارہی ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ برطانیہ ، عالمی عدالت انصاف میں جج کی دعویداری سے دستبردار ہوا ۔ جس کے بعد ہی ہندوستانی امیدوار بھنڈاری کی کامیابی کی راہ ہموار ہوسکی ۔ اقوام متحدہ کی 70 سالہ تاریخ میں برطانیہ عالمی عدالتی ادارہ کا حصہ نہیں ہوگا ۔ ہندوستان کی یہ سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے پیچھے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں غیر معمولی طور پر ہندوستانی امیدوار کی تائید ہے ۔ یہ بھی پہلا موقعہ ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک کو ایک معمولی رکن کے سامنے دوڑ سے دستبردار ہونا پڑا ، اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہی ہوا ہے کہ ایک موجودہ رکن کو دوسرے موجودہ رکن کے باعث اپنی نشست سے محروم ہونا پڑا ۔ کامیاب امیدوار کو جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل دونوں جگہ اکثریت حاصل ہونا ضروری تھا لیکن آخری دو راونڈس کی ووٹنگ کے ختم ہونے کے بعد جنرل اسمبلی میں ہندوستان کو کامیابی ملی تو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں برطانیہ نے کامیابی حاصل کی ۔ جس کے بعد 12 راونڈ پر برطانیہ نے اس دوڑ سے خود کو دور کرلیا ۔ جسٹس بھنڈاری کو جنرل اسمبلی میں 193 ووٹوں کے منجملہ 183 ووٹ ملے اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں تمام 15 ووٹ ملے ہیں ۔ نیویارک کے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر پر ہندوستان کی اس کامیابی پر زبردست خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جنرل اسمبلی میں ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ تائیدی ووٹ کا ملنا ایک بہترین سفارتی کامیابی ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب ہندوستان دو تہائی ووٹ حاصل کرنے کی جانب پیشرفت کررہا ہے ۔ عالمی عدالت انصاف کو ساری دنیا میں خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اس کا قیام 1945 میں ہوا تھا لیکن اس کی طویل مدت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ اس کی رکنیت سے محروم ہوا ہے ۔ آئی سی جے کے 15 ججس میں سے 3 آفریقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 3 کا ایشیا سے تعلق ہوتا ہے ۔ لاطینی امریکہ اور مشرقی یوروپ سے بھی دو دو جج شامل ہوتے ہیں جب کہ پانچ ججس مشرقی یوروپ اور دیگر علاقوں سے آتے ہیں ۔ جسٹس بھنڈاری کی کامیابی کو ہندوستان کی عالمی عدالت تک مضبوط رسائی اور ایک طاقتور رکن کی حیثیت سے موقف حاصل ہوا ہے ۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل مشق کے طور پر جو کام کیا تھا اس میں اسے پیشرفت ہورہی ہے ۔ ہندوستان نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر برطانوی راج کو شکست دیتے ہوئے آگے بڑھنے کا قدم اٹھایا ہے ۔ ہندوستان کی داخلی معاشی ابتر صورتحال کے تناظر میں جسٹس بھنڈاری کی اس کامیابی کو عالمی سطح پر بڑھتی معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہنے کو ایک اچھی علامت تصور کرلینا بہتر ہے مگر داخلی طور پر معاشی خرابیوں کو دور کرنے کی جانب بھی توجہ دینا ضروری ہے ۔ بھنڈاری کی کامیابی عالمی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک مضبوط پیام تو مل گیا ہے کہ ہندوستان کو ان ابھرتی معیشتوں کے ساتھ خود کو قدم بہ قدم ملا کر چلنا ہے تو اندرون ملک معیشت پر فوری اصلاحات کے ساتھ کامیاب منصوبہ بندی پر توجہ دی جائے ۔ برطانیہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے جس نے ماضی میں ہندوستان پر بھی حکومت کی ہے لیکن اب اس کو پیچھے ڈھکیل کر ہندوستان نے آگے قدم بڑھائے ہیں تو اس سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو مزید موثر بنانے کا بھی اشارہ ملتا ہے ۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی ترقی اور بڑھتے عزائم اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کی ابھرتی معیشتوں میں ہندوستان کو اس کا اصل مقام ملنے میں اب دیر نہیں ہوگی ۔ مغربی طاقتیں اپنی حکمت عملی ، جغرافیائی اہمیت اور سفارتی تعلقات کی وجہ سے ساری دنیا میں طاقتور ملک جانے جاتے رہے ہیں اب ہندوستان نے اس کی صفوں میں خود کا قد بلند کرلیا ہے تو آگے چل کر اسے ترقی یافتہ دنیا میں ایک غیر معمولی رول ادا کرنے کا موقع ملے گا ۔ عالمی عدالت انصاف میں ہندوستان کی نمائندگی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو تو یہ بہت خوش آئند علامت متصور ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT