Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / بین الاقوامی یوم یوگا کو عام تعطیل کوشش:وزارت آیوش

بین الاقوامی یوم یوگا کو عام تعطیل کوشش:وزارت آیوش

’’اوم‘‘ اور سوریہ نمسکار سے گریز، مختلف اسکولس میں یوگا کلاسس جاری
نئی دہلی۔8 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزارت آیوش 21 جون کو انٹرنیشنل یوگا ڈے کو عام تعطیل قرار دینے کے لئے مرکز سے درخواست کرے گی بشرطیکہ عوام ایسا مطالبہ کریں ۔ وزیر آیوش شری پد نائک نے دوسرے بین الاقوامی یوم یوگا تقاریب سے قبل کہا کہ ان کی وزارت اس مطالبہ پر غور اور وزیراعظم نریندر مودی سے یوگا کے فروغ اور مفاد میں 21 جون کو عام تعطیل قرار دینے کی درخواست کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ کسی نے بھی ایسا مطالبہ نہیں کیا لیکن کوئی مطالبہ کرے تو ہم وزیراعظم سے اس کی درخواست کریں گے۔ انہوں نے نیشنل ہیلتھ ایڈیٹرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوگا کا وقت صبح ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر 8 بجے کیا جاتا ہے اس لئے تعطیل کی ضرورت نہیں رہتی لیکن یہ مطالبہ کیا جائے تو ہم حکومت سے درخواست کرسکتے ہیں۔ جاریہ سال 21 جون منگل کو انٹرنیشنل یوگا ڈے منایا جارہا ہے جبکہ گزشتہ سال 21 جون کو اتوار تھا۔ انہوں نے ’’اوم‘‘  پڑھنے کے بارے میں جاری تنازعہ کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ اسے لازمی قرار نہیں دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی اچھا کام کیا جاتا ہے تو ہمیشہ چند لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ جاریہ سال ایسی کوئی مخالفت نہیں ہورہی ہے اور ہم نے اسے لازمی قرار نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوم کے بغیر یوگا مکمل نہیں ہوسکتا اور جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں، ہم نے انہیں یہ سمجھادیئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سمجھ چکے ہیں۔ حال ہی میں یو جی سی کے جاری کردہ احکامات پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جس میں تمام یونیورسٹیز اور کالجس کو وزارت آیوش کے یوگا پروٹوکول پر عمل آوری کی ہدایت دی گئی تھی۔

پروٹوکول کے تحت یوگا کا آغاز ’’اوم‘‘ اور چند دیگر سنسکرت شلوکوں سے ہوتا ہے۔ حکومت اور بی جے پی نے تاہم کہا کہ گزشتہ سال کے پروٹوکول کو ہی برقرار رکھا گیا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزارت آیوش نے قبل ازیں کہا تھا کہ ’’اوم‘‘ کہنے کے بارے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ ’’سوریہ نمسکار آسن‘‘ کے بارے میں تنازعہ پر شری پد نائک نے کہا ہے کہ یہ مخصوص آسن گزشتہ سال شامل نہیں کیا گیا تھا اور اس سال بھی یہ آسن نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ آسن ہے اور 45 منٹ کے وقت میں اسے انجام دینا مشکل ہے۔ کیوں کہ کئی لوگوں کے لئے یہ آسن نیا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ہم نے اسے شامل ہی نہیں رکھا ہے۔ وزارت آیوش کے عہدیداروں نے کہا کہ مختلف اسکولس میں چھٹی جماعت سے لے کر 10 ویں جماعت تک جسمانی سرگرمیوں میں یوگا سیشن شامل کیا گیا ہے لیکن اسے لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ وزارت فروغ انسانی وسائل نے بھی سرکولر جاری کرتے ہوئے تمام اسکولس سے کہا ہے کہ وہ یوگا کو شامل کریں۔ چنانچہ چند اسکولس نے اسے اختیار کرلیا اور دیگر کے بارے میں ابھی زیر غور ہے۔ جاریہ سال یوگا تقاریب کے لئے مختص کردہ بجٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزارت آیوش کے سکریٹری اجیت شرن نے کہا کہ ہر وزارت اپنے طور پر رقم خرچ کررہی ہے اور وزارت آیوش فنڈس کے سلسلہ میں کسی کی مدد نہیں کررہی ہے۔ اگر اس ساری رقم کو یکجا کیا جائے تو کئی کروڑ روپئے ہوسکتے ہیں لیکن جہاں تک وزارت آیوش کا تعلق ہے تقریباً 15 کروڑ روپئے کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔ شری پد نائک نے کہا کہ آج کے اس دور میں طرز زندگی میں خرابی کے باعث کئی صحت کے مسائل درپیش ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے میں یوگا کافی فائدہ مند ہے۔ یوگا کے بے شمار فوائد میں جسمانی، ذہنی، جذباتی، سماجی اور روحانی بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یوگا کے مختلف پہلوئوں پر تحقیقات کی گئی ہے اور صحت کی بہتری کے علاوہ مختلف عوارض پر قابو پانے اور ساتھ ہی ساتھ جسمانی صحت میں مثبت تبدیلی لانے میں یوگا کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے یوگا انتہائی مفید ہے۔

TOPPOPULARRECENT