Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / بین مذہبی شادی کے بعد لڑکی نذر آتش

بین مذہبی شادی کے بعد لڑکی نذر آتش

فرضی ویڈیو بنانے پر مشتبہ جرنلسٹ سے پوچھ تاچھ
متھرا ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ڈسٹرکٹ پی آر او سیل ( شعبہ تعلقات عامہ ) کے سوشیل میڈیا گروپ کو ایک قابل اعتراض ویڈیو روانہ کرنے پر اترپردیش پولیس نے ایک جرنلسٹ سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے ۔ جب کہ اس ویڈیو کلپ کی حقیقت کا پتہ چلانے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہے ۔ سینئیر پولیس سپرنٹنڈنٹ کے پی آر او مسٹر اجئے یادو نے بتایا کہ ایک جرنلسٹ نے کل دوپہر متھرا ڈسٹرکٹ پی آر او سیل کے واٹس ایپ گروپ کو یہ ویڈیو پوسٹ کیا تھا ۔ جس میں عوام بالخصوص واٹس ایپ استعمال کرنے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مذکورہ ویڈیو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ وزیراعظم کی توجہ حاصل کی جاسکے ۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ ایک لڑکی جس نے دوسرے مذہب کے لڑکے سے شادی کی ہے ۔ مارپیٹ کرتے ہوئے زندہ جلا دیا گیا۔ کیوں کہ اس لڑکی نے ایک مخصوص مذہب کا لباس پہننے پر اعتراض کیا تھا ۔ ویڈیو پیام پر از خود کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایک نوٹس جاری کردی ہے ۔ اور بتایا کہ ثبوت کی توثیق کے بغیر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی مذمت یا ہتک نہیں کرسکتا اور اس خصوصی میں کوئی شخص یا گروپ قصور وار پایا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ پولیس نے بتایا کہ بادی النظر میں یہ ویڈیو ایک مخصوص مذہب کو رسوا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ ایس ایس پی موہیت گپتا نے سرکل آفیسر سٹی کو ہدایت دی کہ مشتبہ جرنلسٹ کو طلب کر کے پوچھ تاچھ کی جائے جس نے قابل اعتراض ویڈیو پی آر او سیل کے میڈیا گروپ کو پوسٹ کیا ہے تاہم جرنلسٹ نے ادعا کیا ہے کہ یہ ویڈیو پیام وصول ہونے کے بعد میڈیا گروپ کو روانہ کیا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT