Tuesday , December 12 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیوہ، دوسرا نکاح کرلے تو بچوں کی پرورش کا شرعی حکم

بیوہ، دوسرا نکاح کرلے تو بچوں کی پرورش کا شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کا انتقال ہوا، انکے دولڑکے آٹھ سالہ، سات سالہ اور دو لڑکیاں پانچ سالہ، ڈھائی سالہ ہیں۔ مرحوم کی بیوی ہندہ، اجنبی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ بچوں کے نانا، نانی وفات پاگئے ہیں۔ دادا اور دادی باحیات ہیں۔ مرحوم نے اپنی اہلیہ کا مہر ادا کردیا تھا۔ ایسی صورت میں ان بچوں کی پرورش اور مرحوم نے بوقت ِنکاح، جو زیور اپنی اہلیہ کو دیا تھا، ان کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں آٹھ سالہ اور سات سالہ دونوں لڑکے اپنے دادا کے زیرتربیت رہیں گے۔ پانچ سالہ اور ڈھائی سالہ دونوں لڑکیاں بالغہ ہونے تک اپنی ماں (ہندہ) کے زیرپرورش رہیں گے۔ اگر ہندہ کسی اجنبی سے نکاح کرلے تو اسکا حقِّ پرورش ساقط ہوکر نانی زندہ نہونے کیوجہ دادی کو اِن دونوں لڑکیوں کی پرورش کا حق رہیگا۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الحضانۃ ص ۵۴۱ میں ہے: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم … وان لم یکن لہ ام تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الام أولی من کل واحدۃ وان علت فان لم یکن للأم أم فأم الأب أولی ممن سواھا و ان علت۔ اور صفحہ ۵۴۲ میں ہے: والأم والجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی وقدر بسبع سنین … والأم والجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض … وبعد مااستغنی الغلام وبلغت الجاریۃ فالعصبۃ أولی یقدم الأقرب فالأقرب۔
ف:بوقت ِنکاح شوہر بکر نے جو کچھ زیور، چڑھاوا، پارچہ وغیرہ، بیوی ہندہ کو دیا تھا، وہ بیوی کی ملک ہے۔ اب شوہر کی وفات کے بعد بھی وہ بیوی ہی کا ہے۔ اسمیں کسی دوسروں کا کوئی حق و حصہ نہیں۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد۴ کتاب الہبۃ ص ۵ میں ہے: وھذا یوجد کثیرا بین الزوجین یبعث الیھا متاعا وتبعث لہ ایضا وھو فی الحقیقۃ ھبۃ۔
اپنی زندگی میں مالک کا کسی کو دیکر کسی کو نہ دینا’’گناہ‘‘ ہے
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عامرہ کا نکاح زید سے ہوا۔ ناگہانی وجوہات کی بناء عامرہ خلع لے لی۔ اس دوران دونوں سے چار لڑکے اور ایک لڑکی تولد ہوئے ہیں۔ اسی اثناء ایک ماہ کے اندر زیدنے غنڈہ عناصر کی مدد سے ان بچوں کو حاصل کرلیا۔ عامرہ نے چچازاد بھائی سے نکاح کرلی، جن سے ایک لڑکا تولد ہوا۔ اب یہی لڑکا ان کا ہرطرح سے ساتھ دے رہا ہے۔ لہذا عامرہ یہ چاہتی ہیں کہ انکی پوری جائداد کا حقدار اپنے دوسرے شوہر سے تولد ہوئے لڑکے کو ہی بنائے۔ ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: بشرطِ صحت ِسوال صورتِ مسئول عنہا میں عامرہ کو اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں ہرقسم کا تصرف کا حق ہے۔ اگر وہ اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو یہ ’’عطاء‘‘ یا ’’ہبہ‘‘ ہے۔ اس میں انکو چاہئے کہ اپنے تمام پانچ لڑکوں اؤور ایک لڑکی کو اپنی مرضی سے تقسیم کرکے اس سے اپنا قبضہ ہٹاکر جس کو جو دے رہیں، اسکے قبضہ میں دیدیں۔ کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ ہو تو کسی کو دوسروں سے زائد بھی دے سکتی ہیں۔ اگر ایک لڑکے کو دیکر باقی کو محروم کردیں تو لینے والا مالک ہوجائیگا۔ اور دینے والا گنہگار ہوگا۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد ۴ کتاب الہبۃ صفحہ ۵۷۳ میں ہے: وفی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب وکذا فی العطایا اِن لم یقصد بہ الاضرار واِن قصدہ سوی بینھم یعطی البنت کالابن عند الثانی وعلیہ الفتوی ۔ ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و اثم۔ اور ہدایہ کتاب الہبۃ میں ہے: الہبۃ عقد مشروع و تصح بالایجاب والقبول والقبضـ۔ فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT