Tuesday , December 12 2017
Home / مذہبی صفحہ / بیوہ کا نفقہ اور حاملہ بیوی کی عدت

بیوہ کا نفقہ اور حاملہ بیوی کی عدت

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر ایک مرض میں فوت ہوگئے۔ مرحوم کی بیوہ بوقت وفاتِ شوہر حاملہ تھی ۔ بعد ازاں ا یک لڑکا تولد ہوا ۔ اس طرح مرحوم کو دو لڑکے ، پہلا لڑکا دو سالہ ، دوسرا لڑکا تقریباً ایک ماہ کاہے۔ ان حالات میں دریافت طلب امور ہیں ۔ (۱)  بیوہ کی عدت کیا ہوگی اور وہ عدت کہاں گزارے۔ (۲)   دوران عدت بیوہ کے اخراجات کی ذمہ داری کس پر ہے ۔ (۳)  مذکورہ بچوں کی پرورش کب تک کس کے ذمہ رہے گی۔ (۴)  اخراجات ان بچوں کے کس پر عائد ہوں گے ۔ دودھ پلانے کا خرچ ان کے لباس و خورد و نوش کے علاوہ دوا وغیرہ کے اخراجات کس پر عائد ہوں گے؟
جواب :  حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ۔ خواہ وہ طلاق کی عدت ہو یا شوہر کی وفات کی بناء عدت ہو۔ تاتار خانیہ جلد۴ ۔ ص ۵۵ میں ہے:  وفی الحامل عدتھا أن تضع حملھا الحرۃ والأمۃ والمطلقۃ والمتوفی عنھا زوجھا … فی ذلک سواء۔ شوہر نے انتقال سے قبل جس مقام میں بیوی کی رہائش فراہم کی تھی اسی مکان میں بیوی کو عد ت وفات گزارنا ہے۔
معتدۃ الوفات کا نفقہ شوہر مرحوم کے والدین وغیرہ پر شرعاً عائد نہیں۔ اگر شوہر کا متروکہ ہو تو حسب احکام شرع اس کا حصہ اولاد ہونے کی صورت میں بعد تقدیم ماتقدم علی الارث آٹھواں (حصہ) ہے اس سے اپنے گزارے کا بندوبست کرلے ۔ اگر کوئی انتظام ہو تو شریعت نے کسب کے لئے دن کے اوقات میں اس کو باہر نکلنے کی اجازت دی ہے ۔ اس کے برخلاف معتدہ طلاق کو دوران عدت خروج (باہر نکلنے) کی اجازت نہیں کیونکہ اس کا نفقہ شوہر کے مال میں واجب ہے ۔  المعتدۃ من الطلاق لا تخرج من بیتھا لیلا ولا نھارا، فاما المتوفی عنھا زوجھا فلا بأس بأن تخرج فی ا لنھار و فی الزاد۔ و بعض اللیل ۔ لحاجتھا … وأما المطلقۃ فنفقتھا فی مال الزوج فلا تحتاج ال الخروج…
مذکورہ دونوں بچوں کی پرورش سات سال کی عمر تک ماں کے پاس ہوگی، ماں اگر فوت ہوجائے یا بچوں (لڑکوں) کے غیر رحمی فرد سے نکاح کرلے تو نانی کو پرورش کا حق حاصل ہوجائے گا ۔ (والحاضنۃ) اما کان أو غیرھا (احق بہ) ای بالغلام حتی یستغسی عن النساء و قدر بسبع و بہ یفتی … (ثم) ای بعدالام بأن ماتت … أو تزوجت باجنبی (ام الام و ان علت)
سات سال کی عمر ہوتے ہی لڑکوں کا حق حضانت ماں یا نانی سے ختم ہوکر لڑکوں کے والد نہ ہونے کی صورت میں اس کے عصبات قریبہ جیسے دادا ، چچا وغیرہ کو حاصل ہوجاتا ہے۔درمختار باب الحضانۃ میں ہے:  قال فی ا لمنھاج القیلی و ان لم یکن لاصبی اب وانقضت الحضانۃ فمن سواہ من العصبۃ اولیٰ فالا قرب فالا قرب۔دونوں لڑکوں کے والد چونکہ فوت ہوچکے ہیں اس لئے ان لڑکوں کا کوئی مال ہو تو ان کے مال سے ان پر خرچ کریں گے۔ مال نہ ہونے کی صورت میں ان لڑکوں کی ماں اور دادا پر ان کے اخراجات بطور اثلاث کے واجب ہوں گے ۔ یعنی جو کچھ خرچ لباس و خورد و نوش اور طبی وجوہات کی بناء یا ان کی تعلیم و تربیت کی وجہ ہوگا اس کے تین حصہ کر کے دو حصے دادا پر ایک حصہ ماں پر واجب ہوگا ۔ فان مات الاب فنفقۃ الصغیر علی الجدلانہ قائم مقام الاب ، فان کان للصغیر أم وجد فالنفقۃ علی الأم والجد علی قدر میراثھما أثلاثا ۔
دودھ پلانے کی ذمہ داری لڑکے کی ماں پر ہے۔ ان لم یکن للاب ولا للولد مال تجبرالام علی الارضاع عندالکل کذا فی فتاوی قاضیخاں وھوا لصحیح۔
واﷲ اعلم

TOPPOPULARRECENT