Sunday , January 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / بیوہ کا نفقہ

بیوہ کا نفقہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر ایک تاجر ہے اور اس کی کچھ جائداد ہے بکر کو پانچ لڑکیاں اور دو لڑکے تھے، بڑے لڑکے خالد کی شادی ہندہ سے ہوئی۔ میاں بیوی میں ابتداء سے ہی نااتفاقی تھی جس کی وجہ بیوی اپنے میکہ میں اکثر رہا کرتی تھی۔ خالد کی کوئی ذاتی جائداد نہیں، وہ والد کے زیر سرپرستی تھا ایک اتفاقی حادثہ میں اس کا انتقال ہوگیا۔ بیوی کی عمر تقریباً ۲۲ سال ہے اور وہ اب عدت کے دن گزار رہی ہے۔ جوان بیوہ بہو کو {جسکی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہونیکی امید ہے} بکر مستقبل میں اپنے گھر رکھنا نہیں چاہتا۔ بیوہ بھری محفل میں اپنا مہر میت کے روبرو معاف کرچکی ہے۔
مذکورہ بالا حالات میں مرحوم کے والد بکر پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟
جواب: صورت مسئول عنہا میں خالد کے انتقال کی وجہ بیوہ کا نفقہ، خالد کے والد بکر پر واجب نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۵۵۸ میں ہے : لا نفقۃ للمتوفی عنہا زوجھا۔ بیوہ اب بکر کے لئے اجنبی ہوچکی ہے اس پر بیوہ بہو کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ بیوہ کے باپ پر اپنی بیٹی کا نفقہ واجب ہے۔ عالمگیری جلد اول ص ۵۶۳ میں ہے : ونفقۃ الاِناث واجبۃ مطلقا علی الآباء۔

حوض کے متعلق مسئلہ
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کا حوض انیس(۱۹) ذراع لانبا ہے تو اس کی چوڑائی کتنی ہونی چاہئے تاکہ حوض کا پانی دہ در دہ ہوجائے ؟
جواب: صورت مسئول عنہا میں لانبائی انیس (۱۹) ذراع ہے تو اس حوض کی چوڑائی ساڑھے پانچ ذراع رکھی جائے تو یہ حوض دہ در دہ ہوجائے گا۔ فتاوی تاتار خانیہ جلد اول ص :۱۶۹ میں ہے ۔ وعامۃ المشایخ أخذ وا بقول أبی سلیمان و قالوا اذا کان عشرا فی عشر فھو کثیر ، وفی شرح الطحاوی و علیہ الفتوی اور ص :۱۷۲ میں ہے ۔ ان کان عرضہ ذرا عایجب أن یکون طولہ مائۃ ذراع حتی یصیر فی معنی عشر فی عشر ، وان کان عرضہ ذرا عین یجب ان یکون طولہ خمسین ذراعا ۔ اور در مختار بر حاشیہ رد المحتار جلد اول ص : ۱۴۲ میں ہے ۔ ولولہ طول لا عرض لکنہ یبلغ عشرا فی عشر جاز تیسیرا اور ردالمحتار میں ہے (قولہ لکنہ یبلغ الخ) کأن یکون طولہ خمسین و عرضہ ذرا عین مثلا فانہ لو ربع صار عشرا فی عشر۔

بنک کو کرایہ پر دینا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان شخص اپنا مکان اور ملگیات بنک کو کرائے پر دینا چاہتے ہیں۔ کیا بنک کو کرایہ پر دینا درست ہے ؟
جواب: صورت مسئول عنہا میں مسلمان اپنی ملکیت غیرمسلم بنک کو کرایہ پر دے تو اس کے کرایہ کا حصول اور اس سے استفادہ اس کے لئے شرعاً جائز ہے ۔ ہدایہ کتاب الاجارۃ ص : ۲۸۱ میں ہے: (ویجوز استیجارالدور والحوانیت للسکنیٰ وان لم یبین مایعمل فیہ ولہ أن یعمل کل شئی) للاطلاق۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT