Monday , October 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / بیوی طلاق کا دعوی کرنے پر شوہر کے انکار کا شرعی حکم

بیوی طلاق کا دعوی کرنے پر شوہر کے انکار کا شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ ہندہ کا دعوی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق حاصل کرکے علحدگی اختیار کی ہے، جبکہ شوہر زید کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق نہیں دیا، مالی منفعت کی خاطر وہ جھوٹا حلفنامہ شوہرکے
نام کا تیار کرکے ازدواجی تعلقات بگاڑ رہی ہے۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے  ؟  بینوا تؤجروا
جواب: بیوی طلاق کا دعوی کرے اور شوہر انکار کرے تو شرعًا عورت پر اپنے دعوی کیلئے قاضی (حاکمِ عدالت) کے پاس دو مرد یا ایک مرد، دوعورتیں بطورگواہ پیش کرنا لازم ہے۔ یہ گواہ  اشھدباﷲ کہہ کر گواہی دیں تو طلاق ثابت ہوگی اور اگر عورت کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر شوہر کو اسکے انکار پر حلف دلوائی جائیگی اگروہ حلف سے انکار کرے تو عورت کا دعوی ثابت ہوکر تفریق ہوجائیگی۔ اور اگر شوہر حلف اٹھالے تو شوہر کا قول معتبر ہوگا اور دونوں میاں بیوی رہیں گے۔ درمختاربرحاشیہ ردالمحتار جلد۴صفحہ ۴۱۳ میں ہے:  (و) نصابھا(لغیرھا من الحقوق سواء کان)الحق (مالا أو غیرہ کنکاح و طلاق و  وکالۃ وصیۃ واستھلال صبی) ولو (للاِرث رجلان أو رجل و امرأتان) ۔ فتاوی مہدیہ جلد اول صفحہ ۱۷۴ کتاب الطلاق میں ہے:  سئل فی رجل حصل بینہ و بین صھرہ مشاجرۃ و ضافتہ فادعت زوجتہ بأنہ طلقھا غادا مع زوجھا فأنکر دعواھا فھل اذا لم تقم علیہ بینۃ بالطلاق یکون القول قولہ بیمینہ فی عدم الطلاق المدعی بہ وعلیھا اطاعتہ ؟ أجاب : القول للزوج بیمینہ للزوجۃ علی دعواھا الطلاق۔
بشرطِ صحتِ سوال صورتِ مسئول عنہا میں ہندہ، دعویٔ طلاق پر شہادت شرعی پیش کرے تو طلاق واقع ہوگی ، ورنہ شوہر زید کاقول بعدِ حلف قابل قبول ہوکر ہندہ اس کی بیوی رہے گی۔
ماں کے انتقال کے بعد تین سالہ لڑکی کا حقِّ حضانت
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پاشاہ کا عقد بیگم بی سے ہونے کے بعد دونوں کو ایک لڑکی تولد ہوئی، اب اس لڑکی کی عمر تین سال ہے اور ماں بیگم بی کا انتقال ہوچکاہے۔
ایسی صورت میں تین سالہ لڑکی کی پرورش کا حق نانی کو ہوگا یا والد کو؟ اور اس لڑکی کا نفقہ کس پر واجب ہے  ؟ بینوا توجروا
جواب: صورت مسئول عنہا میں ماں بیگم بی کی وفات کے بعد انکی تین سالہ لڑکی کی پرورش کا حق اس کے بالغہ ہونے تک اس کی نانی کو رہے گا۔ بالغہ ہونے کے بعد والد پاشاہ اس کو واپس لیکر نکاح کروائے۔ اور اس لڑکی کا نفقہ اس کے والد پاشاہ پرواجب ہے۔ فتاوی عالمگیری جلداول باب الحضانۃ صفحہ۵۴۱ میں ہے:  وان لم یکن لہ أم تستحق الحضانۃ بان کانت غیرأھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فام الأم أولی من کل واحدۃ وان علت۔  اور صفحہ ۵۴۲ میں ہے:  والأم والجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض …وبعد ما استغنی الغلام وبلغت الجاریۃ فالعصبۃ أولی یقدم الأقرب فالأقرب۔
فقط واللّٰہ أعلم
TOPPOPULARRECENT