Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / بیوی کا شوہر سے برسرعام خلع

بیوی کا شوہر سے برسرعام خلع

پریس کانفرنس میں کاغذات پر دستخط ، علماکا اختلاف رائے
لکھنؤ۔ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسلم خاتون نے اپنے شوہر سے برسرعام ’’خلع‘‘ حاصل کرلی کیونکہ مسلم تنظیموں سے وہ مایوس ہوچکی تھیں۔ اسلام میں جہاں مرد کو طلاق کی اجازت ہے، وہیں خاتون کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع حاصل کرسکتی ہے۔ ساجدہ خاتون کی شادی زبیر علی سے ہوئی تھی اور اس نے کل ایک پریس کانفرنس میں خلع کے مکتوب پر دستخط کئے۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے خلع حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی، اس مقصد کیلئے اسلامی اداروں ندوہ اور فرنگی محل سے وہ رجوع ہوئیں لیکن انہیں کسی طرح کی راحت فراہم نہیں کی گئی تھی لہذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ برسرعام خلع کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے اسے شوہر کو روانہ کروں۔ اس خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ اب آزاد ہے۔ مسلم ویمن لیگ جنرل سیکریٹری نائش حسن نے خلع کی اس کارروائی میں ساجدہ کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ ساجدہ اپنے شوہر کی مسلسل ہراسانی اور اذیت سے تنگ آچکی تھی، وہ گزشتہ 18 ماہ سے اپنے شوہر سے الگ رہ رہی تھی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن عاملہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے تاہم خاتون کے خلع کے اس عمل کو غیردرست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلع ایک مکتوب کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے خاتون کو چاہئے کہ اپنے شوہر کو نوٹس بھیجے اور اگر تین نوٹسوں تک کوئی جواب نہ ملے تب اسے خلع تصور کیا جائے گا۔ اس بارے میں علمائے کرام کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر نائش حسن نے کہا کہ اگر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ ساجدہ کا اقدام غلط تھا تو اسے عدالت سے رجوع ہونا چاہئے۔ آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ صدر شائستہ عنبر نے اس خاتون کی تائید کی ہے اور کہا کہ اس نے جو بھی کام کیا ، وہ درست ہے۔ خلع کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ملک میں طلاق ثلاثہ پر کافی بحث ہوچکی ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT