Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / ’’بیٹا بات نہیں مانوگے تو میں تمہارے خلاف الیکشن لڑوں گا‘‘

’’بیٹا بات نہیں مانوگے تو میں تمہارے خلاف الیکشن لڑوں گا‘‘

باغی بیٹے اکھلیش کو سمجھانے کی کوششوں میں ناکامی پر برہم ملائم سنگھ کے جارحانہ تیور

l پارٹی کے نام اور نشان پر لڑائی کو عدالت تک پہونچانے کی دھمکی
l اکھلیش پر مسلمانوں کے تئیں ، منفی رویہ اختیار کرنے کا الزام
l رام گوپال یادو بی جے پی کے اشاروں پر اکھلیش کو بہکارہے ہیں
l ایس پی سربراہ کا ورکروں کے اجلاس سے خطاب

لکھنو ۔16جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سماج وادی پارٹی ( ایس پی ) کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنے باغی بیٹے اور چیف منسٹر اکھلیش یادو کو منانے کیلئے چیف منسٹر کاعہدہ دینے کی پیشکش کام نہ آنے کے بعد سخت موقف اختیار کرتے ہوئے برہمی کے ساتھ چھڑی دکھائی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر وہ (اکھلیش) ان کی بات نہیں مانیں گے تو وہ اکھلیش کے خلاف انتخابی مقابلہ کریں گے ۔ ایس پی کے دو متحارب گروپوں میں مصالحت کے امکانات ہر گذرتے دن کے ساتھ ختم ہوتے جارہے ہیں ۔ اس دوران ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی سال سے ایس پی ووٹ بینک رہنے والے مسلمانوں کے تئیں ’منفی انداز فکر ‘ اختیار کررہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے جو اعظم گڑھ سے منتخب رکن لوک سبھا ہیں اپنی پارٹی کے ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اکھلیش دراصل رام گوپال یادو کے اشاروں پر کام کررہے ہیں ۔ اگر وہ میری بات نہیں مانیں گے تو میں ان کے خلاف انتخابی مقابلہ کروں گا‘‘۔رام گوپال یادو راجیہ سبھا کے رکن اور ملائم سنگھ یادو کے چچازاد بھائی ہیں اور پارٹی پر کنٹرول کیلئے جاری لڑائی میں وہ اکھلیش کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ ایس پی کے بانی ملائم نے اکھلیش پرالزام عائد کیا کہ وہ مسلمانوں کے تئیں منفی انداز فکر اختیار کررہے ہیں اور وہ رام گوپال کے ہاتھوں کھلونا بن گئے ہیں۔ رام گوپال یادو بی جے پی کی ایماء و ہدایات پر کام کررہے ہیں۔ ملائم سنگھ نے کہاکہ ’’جب مسلمانوں کے مفادات کی بات آتی ہے تو میں مسلمانوں کیلئے زندہ رہوں گا اور ان کے لئے اپنی جان دے سکتا ہوں ۔ میں ان ( اکھلیش) کے خلاف لڑوں گا ‘‘ ۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ ’’میں ہمیشہ ہی مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کھڑا رہا ہوں۔ جب میں نے ایک مسلمان کو ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس ( ڈی جی پی ) کے عہدہ پر تعینات کرنے کا تیقن دیا تھا تو اکھلیش نے 15 دن تک مجھ سے بات نہیں کی تھی کیونکہ وہ کسی مسلم کو اس عہدہ پر تعینات کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ ان کی اس حرکت سے مخالف مسلم پیغام گیا ہے ‘‘ ۔ ملائم سنگھ نے کہاکہ یہ پارٹی بنانے کیلئے وہ کئی قربانیاں دیئے ہیں۔ اکھلیش نے بشمول ایک خاتون ، کئی وزراء کو کسی واجبی وجہ کے بغیر برطرف کردیا۔ ایس پی میں جاری جھگڑوں کے خاتمہ کے لئے ملائم سنگھ نے اس ماہ کے اوائیل کے دوران اپنے سرکش بیٹے کو دوبارہ چیف منسر بنانے کی پیشکش کے ساتھ امن کا اشارہ دیتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا لیکن اکھلیش اور اس پارٹی کی حکمت عملی کے ایک کلیدی پالیسی ساز رام گوپال نے ان کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اکھلیش مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں انھیں آئندہ تین ماہ تک پارٹی کی قیادت کرنے کا موقع دیا جائے لیکن ملائم نے اس مطالبہ کو مسترد کردیا ہے ۔ ان اطلاعات کے درمیان کے اکھلیش کو ایس پی مندوبین ، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی اکثریت حاصل ہے ملائم سنگھ نے اپنے حریف کیمپ کو پارٹی کا نام یا انتخابی نشان دیئے جانے کی صورت میں عدالت سے رجوع ہونے کی دھمکی دی ہے ۔ ملائم سنگھ نے کہا کہ پارٹی کے نام اور انتخابی نشان کا فیصلہ اگرچہ الیکشن کمیشن پر منحصر ہے لیکن ان کی یہ لڑائی بالآخر عدالت پہونچے گی ۔ قبل ازیں ملائم سنگھ یادو آج دن میں اپنے چھوٹے بھائی اور ایس پی کے ریاستی صدر شیوپال یادو کی رہائش گاہ پہونچے تھے ۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ انھوں نے نریش اتم سے بھی بات چیت کی جنھیں اکھلیش نے ایس پی کا ریاستی صدر مقرر کیا ہے اور وہ (نریش) پارٹی ورکروں سے ملائم سنگھ کے خطاب کے دوران بھی موجود تھے ۔ ملائم سنگھ نے کہاکہ پارٹی کو بچانے کیلئے وہ اپنے طورپر ممکنہ بہترین کوششیں کررہے ہیں اور حالات کو نہ سمجھنے پر انھوں نے اکھلیش کی مذمت کی ۔

TOPPOPULARRECENT