Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / بیٹیاں تعلیم میں بیٹوں سے آگے

بیٹیاں تعلیم میں بیٹوں سے آگے

صالحہ شیخ کی مثالی جدوجہد، ملت کی معاشی ترقی میں فیض عام کی مثالی خدمات

حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) معاشرہ میں آج کل لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں زندگی کے ہر شعبہ میں آگے ہیں۔ ہمارے شہر میں ایسے کئی خاندان ہیں جہاں، چھ ، چھ۔ سات، سات بیٹیاں ہیں۔ کوئی بیٹا نہیں۔ اس کے باوجود وہاں بیٹوں کی کمی پوری کررہی ہیں۔ حال ہی میں فلاحی تنظیم فیض عام ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کا 72 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر شمشاد حسین، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں، جناب افتخار حسین سکریٹری و ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ، جناب رضوان حیدر، جناب عامر علی حیدر، ڈاکٹر مخدوم محی الدین، پروفیسر انورخاں اور مجاہد حسین جیسی شخصیتوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے باحجاب ایک ایسی لڑکی کو ان شخصیتوں سے متعارف کروایا جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں خدمات انجام دیتے ہوئے ماہانہ 85000 روپئے تنخواہ حاصل کررہی ہے۔ اس لڑکی کو جناب افتخار حسین نے دوسری مسلم لڑکیوں کیلئے رول ماڈل بھی قرار دیا۔ انہوں نے اس لڑکی کی ملازمت، تعلیم یا تنخواہ کیلئے اسے رول ماڈل نہیں کہا بلکہ اس کی وجہ یہ ہیکہ وہ لڑکی ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس میں صرف بیٹیاں ہیں، بیٹا نہیں۔ صالحہ شیخ نامی اس لڑکی کا نمبر 6 بہنوں میں تیسرا ہے۔ ان کے والد شیخ شمیم اور والدہ سلمیٰ بیگم نے چھ بیٹیوں کے ہونے پر کوئی فکرمندی ظاہر نہیں کی بلکہ ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر بجا لایا ۔دونوں نے اپنی تمام لڑکیوں کو اچھی تعلیم دلائی۔ فیض عام ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کو اپنی جدوجہد سے واقف کرواتے ہوئے شیخ صالحہ نے جو بڑی روانی کے ساتھ انگریزی بات چیت کرتی ہیں، بتایا کہ ان کے والدین نے انہیں اور ان کی بیٹیوں کو اچھی تعلیم اچھی زندگی فراہم کی۔ تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ تاحال تین بہنوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ بڑی بہن نے انٹرمیڈیٹ کیا، دوسری بہن نے گریجویشن کیا اور وہ آسٹریلیا میں مقیم ہے۔ چوتھی بہن کی شادی ہوگئی وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ پانچویں نمبر کی بہن نے گریجویشن کیا اور عالمہ بھی ہیں۔ بی ایڈ بھی کرچکی ہیں۔ چھٹویں بہن نے حال ہی میں گریجویشن کی تکمیل کی ہے۔ صالحہ شیخ کے مطابق ان کے والد شیخ شمیم بڑی مصیبتوں سے سعودی عرب گئے تھے۔ وہ خدمات انجام دے رہے اور اپنی بیٹیوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اپنے بارے میں صالحہ نے بتایا کہ اس نے 5000 روپئے تنخواہ سے ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ آج وہ سیلز فورس نامی ایک کمپنی میں سینئر کوالیٹی انالائسٹ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ماہانہ 85000 یافت حاصل کررہی ہیں۔ شیخ صالحہ کے مطابق ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور دیگر نے صالحہ کی زبردست ستائش کی۔ ان شخصیتوں کا کہنا تھا کہ ملت میں صالحہ شیخ جیسی لڑکیاں ہو تو ایک صحتمند انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں ایم ڈی ایس کی طالبہ شیخ مبین کو 55 ہزار روپئے کا تعلیمی قرض پیش کیا گیا۔ اس لڑکی کے والد میڈیکل ریپریزنٹیٹیو کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ماں خاتون خانہ ہیں۔ شیخ مبینہ جماعت اول سے بی ڈی ایس تک ٹاپر رہی۔ اس میں اس نے 91 فیصد انٹر میں 87 فیصد نمبرات حاصل کئے۔ بی ڈی ایس میں درج اول میں کامیابی حاصل کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم ؍ ڈسمبر 2017ء سے 28 فروری 2018ء تک 463 خاندانوں اور ضرورتمند پرائمری طلبہ میں 2558216 روپئے کی مالی امداد کی تقسیم عمل میں آئی۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تحت حاجی مصطفی قمر فاطمہ فنڈ سے 49325، قاری قطب الدین کلثوم جے بی میمن فنڈ کے ذریعہ 50060، محترمہ قیصر بیگم مرحومہ اور علی حاجی محمد حسین مرحوم فنڈ کے ذریعہ 9240، ممتاز حسین کنیز فاطمہ ایجوکیشنل فنڈ کے ذریعہ 4900، افتخار حسین انیس فاطمہ ایجوکیشنل فنڈ کے ذریعہ 17878، حاجی علی عامر فنڈ 55340، جج عابد علی ایم ٹی وقف فنڈ سے 51000 اور شرف علی عباس فنڈ سے 3500 جملہ 241243 روپیوں کی امداد کی تقسیم عمل میں آئی۔ 3 نرسنگ طالبات، 4 ڈیلائسیس کے مریضوں کی بھی امداد کی گئی۔ جناب افتخار حسین کے مطابق ادارہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست کا فیض عام ٹرسٹ کو بھرپور تعاون حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT