Wednesday , December 12 2018

بیٹی کا جہیز جل گیا، گھر بھی لٹ گیا

کشن باغ میں معذور خاتون ناظمہ بیگم کی دردناک کہانی

کشن باغ میں معذور خاتون ناظمہ بیگم کی دردناک کہانی

حیدرآباد ۔ 17 مئی (سیاست نیوز) کشن باغ میں اشرار نے معذور غریب مسلم خاتون کے مکان کو نذرآتش کرکے اسے مزید معاشی پریشانیوں سے دوچار کردیا۔ حد تو یہ ہیکہ انسانیت کے دشمنوں نے اس خاتون کی بیٹی کی شادی کا جہیز بھی جلا کر خاکستر کردیا جس کے باوجود تقریباً 40 سالہ ناظمہ بیگم کو امید ہیکہ اللہ رب العزت ان کے مشکلات کسی نہ کسی بہانے حل کردے گا۔ کشن باغ میں 4 دن سے کرفیو نافذ ہے۔ آج جب 2 گھنٹے کی نرمی کے دوران ناظمہ بیگم جو کہ اس حادثے اور اشرار کی جانب سے مکان کو نذرآتش کرنے کے وقت اپنے مکان میں نہیں تھی، وہ جب گھر واپس گئیں تو اپنی زندگی کے سرمایہ کو راکھ کی ڈھیر میں تبدیل دیکھ کر ان پر سکتہ طاری ہوگیا اور وہ روتے ہوئے ایک جانب بیٹھ گئی۔ کچھ دیر غم سے نڈھال ہوکر بیٹھ جانے کے بعد جب ظلم و بربریت کا شکار اس خاتون نے اپنے اوسان سنبھال کر مکان کا جائزہ لیا اور کہا کہ 25 تاریخ کو بیٹی کی شادی مقرر ہے اور شادی کی تیاری کیلئے گھر میں جہیز کے سامان میں فرنیچر، سونا، زیورات، بستر اور دیگر اشیاء، خریداری کے بعد سامان جمع کر رکھا تھا لیکن اشرار نے ان کے مقفل مکان کو آگ لگادی جس کی وجہ سے گھر میں موجود جہیز کا سامان، 60 ہزار روپئے نقد اور زیورات کے علاوہ ان کی زندگی کیلئے موجود تمام سامان راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ اپنے تباہ شدہ مکان سے امید کی کچھ کرنوں کو ڈھونڈتے ہوئے جب اس خاتون نے اپنے بچوں کو اسکول کے بستوں اور کتابوں کی راکھ کو ہاتھ لگایا تو پھر اس غم زدہ ماں کی آنکھ سے آنسو رواں ہوگئے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے ناظمہ بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کرایہ کا آٹو چلاتے ہیں اور وہ اس کرایہ کے مکان میں گذشتہ 4 ماہ سے مقیم ہیں۔ 25 تاریخ کو مقررہ شادی کے ضمن میں رسم کیلئے وہ والدہ کے گھر روانہ ہوئی تو اشرار نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ اس غریب خاتون نے گھر کے تمام سامان کو دیکھتے ہوئے کہا کہ جہیز کے سامان کے علاوہ گھر میں روزانہ کی ضروریات کا سازوسامان، راشن، سودا اور بہت کچھ تھا جو اب راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اب ناظمہ بیگم کو خود اپنی زندگی ازسرنو شروع اور 25 تاریخ کو مقرر شادی کیلئے پھر پائی پائی جوڑنی ہے۔ معذور خاتون کو اندراماں پنشن اسکیم کے تحت ماہانہ 500 روپئے وظیفہ جو ملتا ہے اس کی پاس بک اور کاغذات بھی آگ کی نذر ہوگئے جو کہ معاشی مسائل کو حل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ اب اس میں بھی رکاوٹیں آ چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ملنے والے اس تعاون کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے ناظمہ بیگم کو اب پاس بک اور دیگر ضروری کاغذات حاصل کرنے ہوں گے اور حکومتی اداروں سے اپنی شناخت کی توثیق اور پھر ان کاغذات کا حصول اس غریب خاتون کیلئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ کشن باغ فساد کے متاثرین کی مدد کیلئے ملت کے ہمدرد افراد آگے آ چکے ہیں جو افراد اس تشدد سے بری طرح متاثر ہوئے اور ان کے گھر اجڑ چکے ہیں ان کی بازآباد کاری کیلئے ٹھوس اقدامات اور مستقل مدد وقت کا اہم تقاضہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT