Sunday , June 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / بیٹی کی پرورش پر جنت کی بشارت

بیٹی کی پرورش پر جنت کی بشارت

قاری ایم ایس خان
آج کل بیٹی کی پیدائش پر نفرت یا غصہ کا اظہار اور بیٹیوں کو وراثت یا ترکہ سے محروم کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ بیٹی کی پیدائش پر طلاق کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔ بعض لوگ لڑکی کی پیدائش کو اپنے لئے باعث ذلت و عار سمجھتے ہیں اور برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جس طری بیٹا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اسی طرح بیٹی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، دونوںکی پیدائش اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش کی جتنی فضیلت بیان کی ہے، بیٹوں کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمایا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، تو اس کی بدولت وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘ (ترمذی) ایک دوسری حدیث بھی ان ہی سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے زندگی گزارے (یعنی ان کے جو حقوق شریعت نے مقرر کئے ہیں، وہ ادا کرے)، ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، ان کے وجود کو اپنے لئے مصیبت اور باعث ذلت نہ سمجھے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائے گا‘‘۔ (ترمذی، باب ماجاء فی النفقہ علی البنات)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور اس کو ان بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کا سابقہ پیش آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ان کی پرورش کرے اور ان کو تہذیب و ادب سکھائے اور ان کے کھلانے پلانے اور دیگر ضروریات کے انتظام کی تکلیف پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کو جنت میں داخل کرے گا‘‘۔ کسی نے سوال کیا: ’’اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو بیٹیوں کا بھی یہی حکم ہے‘‘۔ پھر کسی نے سوال کیا: ’’اگر کسی کی ایک بیٹی ہو (تو کیا وہ اس ثواب عظیم سے محروم رہے گا؟)‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ایک بیٹی کی اس طرح پرورش کرے گا، اس کے لئے بھی جنت ہے‘‘۔ (اتحاف السادۃ المتقین)
بیٹی جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر و تحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی‘‘ (ترمذی) یعنی جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے بچنے کا ذریعہ بچیوں کی صحیح پرورش ہے۔ اس کے علاوہ ایک عظیم فضیلت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے (اور جب شادی کے قابل ہو جائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہوں گے، جس طرح یہ دونوں اُنگلیاں ملی ہوئی ہیں‘‘۔ (ترمذی)
بیٹیوں کی پرورش کی فضیلت کے ساتھ ساتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں، جو زمانۂ جاہلیت میں بیٹیوں سے چھین لئے گئے تھے، لیکن دور حاضر میں بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی برتی جا رہی ہے، جب کہ نکاح سے بیٹی کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ آج ہمارے معاشرہ کا یہ حال ہے کہ اول تو بیٹیوں کو مال و جائداد میں حصہ نہیں دیا جاتا اور اگر ان سے کہا جائے کہ تم نے سب کچھ بیٹوں کو دے دیا، بیٹیوں کو تو کچھ دیا ہی نہیں؟ تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ’’ہم نے ان کی شادی کردی، بیٹی کی شادی کے موقع پر جو کچھ بھی بشکل جہیز دیا گیا، اس سے بیٹی کا حق ادا ہو گیا‘‘۔ یہ بات بالکل غلط ہے، کیونکہ بیٹی کو جہیز دینے سے اس کا حق میراث ختم نہیں ہوتا، لہذا اسے مال و جائداد سے محروم کرنا درست نہیں ہے۔ جس طرح باپ نے بیٹے کی شادی میں خرچ کیا، اسی طرح بیٹی کی شادی میں بھی خرچ کیا، بلکہ عام طورپر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بیٹے کی شادی میں بیٹی کی شادی کے مقابلہ میں زیادہ خرچ کیا جاتا ہے، حالانکہ شادی بیاہ کے اخراجات کے معاملے میں برابری کا خیال رکھنا چاہئے۔ بیٹی کو کم دینا یا بالکل نہ دینا شرعاً ناجائز اور ظلم ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کو ختم کیا تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا حصہ ختم کردے گا‘‘۔
TOPPOPULARRECENT