Thursday , January 18 2018
Home / جرائم و حادثات / بیٹے کی موت پر شبہ ، والد انسانی حقوق کمیشن سے رجوع

بیٹے کی موت پر شبہ ، والد انسانی حقوق کمیشن سے رجوع

سسرال جانے کے بعد نعش کی دستیابی ، قتل کا الزام

سسرال جانے کے بعد نعش کی دستیابی ، قتل کا الزام
حیدرآباد /3 مارچ ( سیاست نیوز ) ایک شخص نے اپنے بیٹے کی مشتبہ موت کے مسئلہ کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کردیا ہے ۔ 50 سالہ عبدالجبار ساکن بورا بنڈہ حبیب فاطمہ نگر کو اپنے نوجوان بیٹے کی موت پر قتل کا شبہ ہے ۔ یاد رہے کہ 26 فروری سال 2015 کے دن ریلوے پولیس نامپلی نے بیگم پیٹ کے علاقہ میں ٹرین کی پٹریوں کے قریب سے 35 سالہ محمد احمد کی نعش برآمد کرلی تھی احمد ایک روز قبل اپنے سسرال گیا تھا جو واپس نہیں لوٹا اور اس کی نعش برآمد ہوئی ۔ محمد عبدالجبار نے اپنے بیٹے کی موت پر قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے بہو اور اس کے رشتہ داروں پر بیٹے کے قتل کا الزام لگایا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کے بیٹے کی نعش دستیاب ہوئی تھی اس کے شرٹ کے جیب سے ایک چٹی دستیاب ہوئی ۔ جس پر عبدالجبار کا نام درج تھا ۔ جبکہ ان کے فرزند کے جسم پر زخموں کے نشان تھے ۔ جیسا کہ ایسے زدوکوب کیا گیا ہو ۔ انہوں نے اپنے مرحوم بیٹے کے برادر نسبتیوں پر بیٹے کو کئی بار زدوکوب کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کی بہو کی ایما پر ہی اس کے بھائی مرحوم احمد کو زدوکوب کرتے تھے ۔ مرحوم احمد کی شادی 10 سال قبل بیگم پیٹ علاقہ کی ساکن تسلیم سے ہوئی تھی اور ان کے چار بچے ہیں اور تین بچے بشمول دو بیٹے اور ایک بیٹی اب دادا کے یہاں رہتے ہیں ۔ مرحوم احمد کے والد عبدالجبار کا کہنا ہے کہ شادی کے چند روز بعد ہی احمد نے گھریلو مسائل و پریشانیوں روزانہ کے جھگڑوں سے تنگ آکر علحدگی اختیار کرلی تھی اور حبیب فاطمہ نگر ہی کے علاقہ میں ان کے مکان سے تھوڑی دور پر بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا ۔ موت سے ایک ہفتہ قبل اس کے بڑے بیٹے کی صحت بہت خراب ہوگئی تھی ۔ جس کا علاج نیلوفر ہاسپٹل میں کروانے کے بعد احمد نے اپنے بڑے بیٹے کو والدین کے یہاں چھوڑ دیا ۔ بچے دادا دادی سے لگاؤ کے سبب ان کے پاس رہتے تھے اور اب احمد کی موت کے بعد 3 بچے عبدالجبار کے پاس ہی رہتے ہیں جبکہ ایک لڑکی والدہ کے ساتھ رہتی ہے ۔ عبدالجبار نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی موت کی اعلی سطح تحقیقات کرتے ہوئے حقیقی خاطیوں کو گرفتار کرکے اور انہیں کیفر کردار تک پہونچائے ۔

TOPPOPULARRECENT