Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / بیٹے کی نعش لینے سے وقار کے والد کا انکار

بیٹے کی نعش لینے سے وقار کے والد کا انکار

حیدرآباد۔/7اپریل، ( سیاست نیوز) پولیس کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے نوجوان وقار احمد کے والد محمد احمد نے آج حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بیٹے کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کرائی جائے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی نعش حاصل کرنے سے انکار کردیا۔ بتایا کہ خاطی پولیس پارٹی کے خلاف بھ

حیدرآباد۔/7اپریل، ( سیاست نیوز) پولیس کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے نوجوان وقار احمد کے والد محمد احمد نے آج حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بیٹے کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کرائی جائے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی نعش حاصل کرنے سے انکار کردیا۔ بتایا کہ خاطی پولیس پارٹی کے خلاف بھی قتل کا مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ جس انداز میں ان کے بیٹے اور دیگر نوجوانوں کا انکاؤنٹر کے نام پر قتل کیا گیا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے منصوبہ بند سازش کے طور پر یہ کارروائی انجام دی ہے۔ مسٹر احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وقار احمد نے کئی مرتبہ عدالت کو پولیس کی جانب سے جان کو خطرہ لاحق ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انکاؤنٹر تلنگانہ پولیس کا ظلم ہے اور پولیس کی اس حرکت سے تلنگانہ حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وقار احمد نے کبھی بھی پولیس تحویل سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی تھی اور وہ عدالت میں زیر التوا مقدمات سے برات کی امید رکھتا تھا۔ اگر ان کا بیٹا قصوروار ثابت ہوتا تو اسے پھانسی دی جاسکتی تھی لیکن اس طرح فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنا انتہائی سنگین جرم ہے۔ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ان کے بیٹے کو عصری ہتھیار سے قتل کرنا انتہائی افسوسناک ہے اور اس انکاؤنٹر سے متعلق تمام حقائق کا پتہ چلانا صرف سی بی آئی تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کے خلاف وقار احمد کے ساتھی سید امجد علی عرف سلیمان کے بھائی سید امتیاز علی نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ زیر التواء مقدمات میں جرم ثابت کرنے میں ناکامی کے ڈر سے پولیس نے فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ ان کے بھائی کا قتل کیا ہے۔ امتیاز علی نے بتایا کہ ان کے بھائی امجد نے حال ہی میں عدالت میں درخواست داخل کی تھی جس میں آئے دن ورنگل جیل سے حیدرآباد منتقل کئے جانے کے سبب ان کی کمر میں شدید تکلیف اور کیس کی سماعت کی کارروائی ان کی عدم موجودگی میں چلانے کی گذارش کی تھی۔ جس کا فیصلہ آج دوپہر میں متوقع تھا۔ وقار کے وکیل ایم اے عظیم نے بھی پولیس کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ کیس میں ملوث ملزمین کو انکاؤنٹر کے نام پر ہلاک کردینا خلاف قانون ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT