Friday , February 23 2018
Home / جرائم و حادثات / بیٹے کے قتل کے بعد ماں کی خود کشی

بیٹے کے قتل کے بعد ماں کی خود کشی

حیدرآباد ۔ /10 جون (سیاست نیوز) کاروبار کیلئے اپنے حقیقی بھائی کی مدد کرنا ایک بھائی کی زندگی کی تباہی کا سبب بن گیا جہاں بھائی کی جانب سے زیورات کی واپسی میں رکاوٹ سے قرض دار بھائی کی بیوی اور بیٹا فوت ہوگئے ۔ یہ واقعہ پیٹ بشیرآباد پولیس حدود میں پیش آیا ۔ جہاں 34 سالہ ہرشا بورانیا تھے اپنے 4 سالہ بیٹے تیرتھ بورانیا کا قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی  ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہرشا بورانیا گنیش کالونی پیٹ بشیرآباد علاقہ کے ساکن مہیندر بورانیا کی بیوی تھی ۔ مہندر بورانیا نے دو سال قبل اپنے بھائی کو کاروبار میں مدد کرتے ہوئے اُسے اپنی بیوی ہرشابورانیا کے زیورات دیئے تھے ۔ تاہم مہیندر کا چھوٹا بھائی ان زیورات کی واپسی اور رقم کی ادائیگی کے تعلق سے سنجیدہ نہیں تھا ۔ مہیندر نے اپنے بھائی سائیلش سے کافی مرتبہ ذکر کرچکا تھا ۔ تاہم کوئی جواب نہ ملنے پر وہ خاموش تھا ۔ اچانک مہیندر کی بیوی ہرشا جس کے زیورات تھے اس نے دلبرداشتہ ہوکر اپنے چار سالہ لڑکے کا گلا گھونٹ دیا اور خودکشی کرلی ۔ پولیس پیٹ بشیرآباد نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT