Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات کے نظریہ کی تائید

بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات کے نظریہ کی تائید

9,000 کروڑ روپئے کے مصارف کے علاوہ دستور ی ترمیم بھی ضروری
نئی دہلی۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے بیک وقت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق حکومت کے نظریہ کی تائید کی لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا کہ اس کے بھاری مصارف ہوں گے اور بعض ریاستی اسمبلیوں کی میعاد میں توسیع یا تخفیف کے لئے دستور میں ترمیم کرنا ہوگا۔بیک وقت پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرنے کی حامی ایک پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر وزارت قانون نے الیکشن کمیشن سے اپنے نظریات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے جواب میں کمیشن نے کہا کہ وہ اس نظریہ کی تائید کرتا ہے لیکن اس کے مصارف 9,000 کروڑ روپئے ہوں گے۔ کمیشن نے حکومت اور اسٹینڈنگ کمیٹی سے کہا کہ بیک وقت انتخابات کے لئے بڑے پیمانے پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینس اور دیگر ساز و سامان خریدنا ہوگا۔ پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے کہا کہ ’’صرف الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹرائیل مشینوں کی خریدی کے لئے ہی 9,284.15 کروڑ روپئے درکار ہوں گے اور ان مشینوں کو ہر پندرہ سال بعد بدلنا ہوگا۔ انہیں محفوظ رکھنے کیلئے ویر ہاؤز کے مصارف بھی برداشت کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT