Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / بیگم پیٹ ائرپورٹ کی 790 ایکڑ اراضی کے تحفظ کی ضرورت

بیگم پیٹ ائرپورٹ کی 790 ایکڑ اراضی کے تحفظ کی ضرورت

حیدرآباد /15 مارچ( محمد مبشر الدین خرم ) شہر میں بیگم پیٹ ائرپورٹ کی وسیع اراضی کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے، چونکہ اس اراضی اور اس پر کروڑہا روپئے کے انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں۔ 1930 میں نواب میر عثمان علی خاں نے حیدرآباد ایرو کلب کے قیام کے ساتھ بیگم پیٹ ایرپورٹ کا آغاز کیا، جو کہ ابتدا میں دکن ایرویز کی پروازوں کیلئے مخصو

حیدرآباد /15 مارچ( محمد مبشر الدین خرم ) شہر میں بیگم پیٹ ائرپورٹ کی وسیع اراضی کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے، چونکہ اس اراضی اور اس پر کروڑہا روپئے کے انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں۔ 1930 میں نواب میر عثمان علی خاں نے حیدرآباد ایرو کلب کے قیام کے ساتھ بیگم پیٹ ایرپورٹ کا آغاز کیا، جو کہ ابتدا میں دکن ایرویز کی پروازوں کیلئے مخصوص تھا اور 1937ء میں نظام دکن نے اس ایرپورٹ کو وسعت دے کر قدیم ٹرمنل بلڈنگ تعمیر کروائی تھی۔ بعد ازاں انضمام حیدرآباد کے بعد اس ٹرمنل سے پروازوں و مسافرین کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا اور 1972 میں موجودہ ٹرمنل کی عمارتوں کی تعمیر عمل میں آئی، بیگم پیٹ سے پروازیں 2008 تک جاری رہیں اور اس کے بعد سے یہ ایرپورٹ کمرشیل آپریشنس کیلئے مقفل کردیا گیا، لیکن آج بھی ایرپورٹ پر ایرٹریفک کنٹرول اور دیگر سہولتیں موجود ہیں۔ 2008 میں جب یہاں سے کمرشیل پروازوں کا سلسلہ منقطع ہوا تو اس وسیع اراضی پر گھس پیٹیوں کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی نظریں پڑنے لگیں اور بعض صنعتی ادارے اور اسکے ذمہ داران جو کہ حکومت کے نور نظر ہیں، ایرپورٹ اور اسمیں موجود انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ ایرپورٹ کی مرکزی عمارت کو قانونی طورپر حاصل کرنے کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ایرپورٹ سے متصل اراضی پر لینڈ گرابرس قبضہ کرنے لگے ہیں ۔ ایرپورٹ جس وقت کارکرد تھا اس وقت ایرپورٹ خدمات سے جڑے جن سرکاری اداروں کو ایرپورٹ کے قریب جگہ فراہم کی گئی تھی، وہ ادارے اب شہر کے مرکزی علاقہ میں موجود اس اراضی کو اپنی ملکیت قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ اگر آصف جاہی حکمراں کی جانب سے محکمہ شہری ہوا بازی کو حوالے کردہ 790 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کرتی ہے تو شہر کے مرکزی علاقہ بیگم پیٹ میں حکومت کو 790 ایکڑ اراضی حاصل ہوسکتی ہے ۔ طیرانگاہ کے اطراف اراضیات پر قبضوں کی جو کوششیں ہو رہی ہیں، انھیں روکنے کے علاوہ حکومت ہند سے یہ اراضی ریاستی حکومت واپس حاصل کرسکتی ہے۔ ایرپورٹ پر کمرشیل آپریشنس ختم ہوچکے ہیں ۔ جبکہ ایرپورٹ کی ٹرمنل کی عمارت میں ہرطرح کی سہولت موجود ہے اوررن وے و اطراف کی وسیع و عریض کھلی اراضی بھی بے انتہا قیمتی اراضی کی فہرست میں شامل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT