Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / بیگم پیٹ ایرپورٹ کی دوبارہ کشادگی ممکن،اندرون ملک پروازوں کیلئے قدیم ایرپورٹ سازگار

بیگم پیٹ ایرپورٹ کی دوبارہ کشادگی ممکن،اندرون ملک پروازوں کیلئے قدیم ایرپورٹ سازگار

حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) مرکزی وزارت شہری ہوا بازی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو کابینہ کی منظوری کے بعد بیگم پیٹ ائیر پورٹ کی کشادگی کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ اب تک یہ کہتے ہوئے بیگم پیٹ ائیرپورٹ کی کشادگی یا اندرون ملک سفر کیلئے آغاز سے روکا جا رہا تھا کہ اندرون 150کیلو میٹر ایک سے زائد ائیر پورٹ شہری ہوا بازی پالیسی کے خلاف ہے۔ مرکزی کابینہ نے دو یوم قبل شہری ہوا بازی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے جو نئی پالیسی اعلان کی ہے اس کے مطابق اب اندرون 100کیلو میٹر بھی ایک سے زائد ائیر پورٹ رہنے کی گنجائش ہے۔ ملک کے مختلف چھوٹے شہروں سے فضائی سفر کے آغاز کے ساتھ شہروں کو فضائی سفر سے مربوط کرتے ہوئے مسافرین کی تعداد میں اضافہ اور شعبہ ٔشہری ہوا بازی میں سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے کیئے جانے والے ان اقدامات کا بھرپور فائدہ ریاست تلنگانہ حاصل کرسکتی ہے۔ حکومت تلنگانہ اگر سنجیدگی کے ساتھ بیگم پیٹ ائیر پورٹ کی کشادگی کے مسئلہ کو مرکز سے رجوع کرے تو ممکن ہے کہ شہری ہوا بازی پالیسی میں ترمیم کا فائدہ اٹھانے والی ریاستوں کی فہرست میں سب سے آگے رہ سکتی ہے چونکہ حیدرآباد میں موجود قدیم بیگم پیٹ ائیرپورٹ پر آج بھی بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے اور اس انفراسٹرکچر کے بہتر استعمال کے ذریعہ شہر حیدرآباد کو ان شہروں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جہاں دو ائیر پورٹ موجود ہیں۔ شمس آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے آغاز سے قبل بیگم پیٹ ائیر پورٹ کی برقراری کیلئے مختلف تنظیموں کی جانب سے جدوجہد کی جاتی رہی لیکن اس وقت کی حکومت نے کارپوریٹ مفادات کے پیش نظر بیگم پیٹ ائیر پورٹ کو پوری طرح سے مقفل کردیا لیکن اب ریاست میں برسر اقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی حکومت جو بارہا سلطنت آصفیہ کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج پیش کرتی ہے اس کیلئے محکمہ شہری ہوابازی کی پالیسی میں ترمیم ایک بہترین موقع ہے جس سے استفادہ کے ذریعہ حکومت نہ صرف شہر کی اہمیت میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ حیدرآباد سے اندرون ملک سفر کرنے والے فضائی مسافرین کو معیاری سہولتیں اور وہ بھی قلب شہر میں فراہم کرتے ہوئے ان کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT