Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / بیگم پیٹ کی وقف اراضی پر غیر مجاز تعمیرات روکنے وقف بورڈ آخر کاربیدار

بیگم پیٹ کی وقف اراضی پر غیر مجاز تعمیرات روکنے وقف بورڈ آخر کاربیدار

ڈپٹی چیف منسٹر کی متعلقہ جوائنٹ کلکٹر ، آر ڈی او کووقف بورڈ سے تعاون کرنے کی ہدایت

حیدرآباد ۔ 20۔ ستمبر (سیاست نیوز) عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی پر گزشتہ 10 دنوں سے جاری غیر مجاز تعمیرات کو روکنے کے سلسلہ میں آخر کار وقف بورڈ خواب غفلت سے بیدار ہوا ہے ۔ تعمیرات میں اچانک شدت اور مختلف گوشوں سے وقف بورڈ کو تنقیدوں کا نشانہ بنانے کے بعد وقف بورڈ کے عہدیداروں نے مداخلت کی اور نہ صرف تعمیرات کو روک دیا بلکہ غیر مجاز قابضین کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے قابضین کے خلاف کارروائی کیلئے سائبر آباد کے کمشنر سندیپ شنڈیلیا اور جوائنٹ کمشنر شاہنواز قاسم سے بات چیت کی ۔ انہوں نے ریونیو حکام سے خواہش کی کہ وہ گزشتہ 10 دن کے دوران تعمیر کئے گئے شیڈس کو منہدم کرنے کیلئے ٹیم روانہ کر یں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی کمپنیوں کی جانب سے اگرچہ 10 دن سے تعمیری کام جاری تھا لیکن کل سے ان کاموں میں شدت پیدا کردی گئی ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی اور بورڈ کی ٹاسک فورس ٹیم کو روانہ کیا ۔ دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے متعلقہ جوائنٹ کلکٹر اور آر ڈی او کو ہدایت دی کہ وہ وقف عہدیداروں سے تعاون کریں۔ محمود علی نے انچارج کمشنر سائبر آباد سے ربط قائم کیا اور پولیس کی جانب سے تعاون کی خواہش کی ۔ اس طرح پولیس اور ریونیو حکام گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیئے ۔ منان فاروقی نے تین گھنٹے سے زائد علاقہ میں اپنی نگرانی میں عارضی شیڈس کی تعمیر کو روک دیا۔ متعلقہ وقف انسپکٹر کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لیا اور سامان منتقلی کی لاریوں کو ضبط کرلیا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر شام تک علاقہ میں موجود رہے تاکہ دوبارہ تعمیری سرگرمیوں کا آغاز نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران پلاٹ ہولڈرس نے کئی شیڈس تعمیر کرلئے اور گزشتہ دو دنوں میں یہ تعمیرات مسجد تک پہنچ چکی تھی۔ آج کی کارروائی میں زیر تکمیل شیڈس کی تعمیر کو روکا گیا جبکہ مکمل شدہ شیڈس ابھی بھی برقرار ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور صدرنشین وقف بورڈ نے ریونیو حکام سے انہدام کارروائی میں تعاون کی خواہش کی ہے۔ مقامی افراد نے وقف بورڈ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بارہا نمائندوں کے باوجود ٹاسک فورس ٹیم کو روانہ نہیں کیا گیا ۔ اگر وقف بورڈ تمام شیڈس کو منہدم نہیں کرے گا تو یہ تعمیرات مستقل نوعیت اختیار کرلیں گی۔

TOPPOPULARRECENT