Friday , January 19 2018
Home / ہندوستان / بی ایس این ایل ،ایرانڈیا کو خانگیانے کا منصوبہ نہیں

بی ایس این ایل ،ایرانڈیا کو خانگیانے کا منصوبہ نہیں

نئی دہلی ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا کہ وہ سرکاری زیرانتظام بیمار مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل اور قومی ایرلائنس ایرانڈیا سے تخفیف سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی حالانکہ دونوں کو زبردست نقصان کا سامنا ہے۔ لوک سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے وزیرمملکت برائے فینانس جینت سنہا نے کہاکہ فی الحال ایسی کوئ

نئی دہلی ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا کہ وہ سرکاری زیرانتظام بیمار مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل اور قومی ایرلائنس ایرانڈیا سے تخفیف سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی حالانکہ دونوں کو زبردست نقصان کا سامنا ہے۔ لوک سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے وزیرمملکت برائے فینانس جینت سنہا نے کہاکہ فی الحال ایسی کوئی تجویز ہیں ہے، کہ ایرانڈیا اور بی ایس این ایل سے تخفیف سرمایہ کاری کی جائے۔ دونوں کمپنیاں ایک عرصہ سے نقصان کا شکار ہیں اور دونوں کے ملازمین کمپنیوں کو خانگیانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ سنہا ایک سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ کیا تخفیف سرمایہ کاری کے منصوبہ میں سرکاری شعبہ کی صنعتیں جیسے کہ بی ایس این ایل اور ایرانڈیا کے علاوہ فولاد کے کارخانے بھی فہرست میں شامل ہیں۔

مالی سال 2015-16ء کیلئے حکومت کو امید ہیکہ سرکاری زیرانتظام اداروں میں حکومت کے حصص سے اسے 69500 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی جس کیلئے وہ سرکاری اداروں میں اپنے حصص فروخت کرنے کیلئے تیار ہے۔ ایک تخمینہ کے بموجب اس رقم میں سے 41 ہزار کروڑ روپئے چھوٹے حصص کی فروخت تھے، حاصل ہوں گے جو سرکاری زیرانتظام اداروں میں ہے، باقی 28 ہزار 500 کروڑ روپئے دفاعی شعبوں میں حکومت کے حصص کی فروخت سے حاصل ہوں گے۔ تخفیف سرمایہ کاری کے 2015-16ء کیلئے مقررہ نشانہ کے مطابق حکومت کوشش کررہی ہیکہ تیز رفتاری سے تخفیف سرمایہ کاری کے عمل کی منظوری حاصل کی جائے۔ وزیرمملکت برائے فینانس نے ایوان کو اطلاع دی کہ تخفیف سرمایہ کاری کی وصولی مقررہ نشانہ سے کم رہی۔ گذشتہ 3 مالی سالوں کے دوران توقع کے مطابق رقم حاصل نہیں ہوسکی۔ تیل اور کول انڈیا میں تخفیف سرمایہ کاری کے ذریعہ 2014-15ء میں حکومت کو 24277 کروڑ روپئے حاصل ہوئے تھے جبکہ مقررہ نشانہ 36925 کروڑ روپئے تھا۔ 2013-14ء میں نشانہ سے 15819 کروڑ روپئے کم حاصل ہوئے جبکہ نشانہ 40 ہزار کروڑ روپئے کا تھا۔ 2012-13ء میں نشانہ 30 ہزار کروڑ روپئے کا تھا جبکہ صرف 23 ہزار 956 کروڑ روپئے حاصل ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT