Wednesday , August 15 2018
Home / Top Stories / بی ایس پی۔ ایس پی کے درمیان ایک بارپھر قربت میں اضافہ کا امکان

بی ایس پی۔ ایس پی کے درمیان ایک بارپھر قربت میں اضافہ کا امکان

BSP Supremo Mayawati hold a press conference at her official residence in Lucknow on Thursday. Express Photo by Vishal Srivastav. 24.08.2017. *** Local Caption *** BSP Supremo Mayawati hold a press conference at her official residence in Lucknow on Thursday. Express Photo by Vishal Srivastav. 24.08.2017.

گورکھپور لوک سبھا نشست کے ضمنی انتخاب کے لئے بی ایس پی کی ایس پی امیدوار کو حمایت‘مایاوتی کے احکامات

گورکھپور 4,مارچ (سیاست ڈاٹ کام )گورکھپور لوک سبھا نشست کے لئے ہونے والے ضمنی انتخاب کے لئے بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) نے سماجوادی پارٹی ( ایس پی) کے امیدوار کی حمایت کر نے کا اعلان کیا ہے ۔یہ اعلان گورکھپور کے لئے بی ایس پی کے کوآرڈینیٹر گھنشیام کھروار نے سماجوادی پارٹی کے پروین نیشاد امیدوار کی حمایت کے فیصلے کا اعلان کیا۔ مسٹر کھروار نے گورکھپور کے چمپا دیوی پارک پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی صدر مایاوتی کا حکم ہے کہ وہ گھر گھر جا کر سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی حمایت میں ووٹ مانگے ۔سماجوادی پارٹی کے قانون ساز کونسل کے رکن ادیویر سنگھ بھی کانفرنس بھی موجود تھے ۔ مسٹر کھروار اور اور ادیویر سنگھ نے نشاد کا ہاتھ اٹھاکر ان کو جتانے کی اپیل کی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد حالات بدل سکتے ہیں۔اب بی جے پی کے امیدوار کے لیے معاملہ آسان نہیں ہے ۔30 اکتوبر اور 2نومبر 1990 کو اجودھیا میں ہونے والی فائرنگ کے بعداس وقت کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کی کافی شرمندگی ہوئی تھی۔ اس کے کچھ ماہ بعد 1991 میں ہوئے اسمبلی کے انتخابات میں مسٹر یادو کو زبردست شکست ملی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست میں پہلی بار حکومت بنائی تھی۔ کلیان سنگھ کو وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔چھ دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے متنازعہ ڈھانچہ مسمار کر دیا تھا۔ کلیان سنگھ حکومت برطرف کر دی گئی تھی۔ 1993 میں بی ایس پی کے اس وقت کے صدر کانشی رام اور ملائم سنگھ یادو کی پارٹی سماجوادی پارٹی نے مل کر الیکشن لڑا۔

اس کا نتیجہ رہا کہ 1993 میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد نے حکومت بنائی اور ملائم سنگھ یادو وزیر اعلی چنے گئے ۔حکومت قریب ڈیڑھ سال چلی کہ اسی درمیان دو جون 1995 کو لکھنؤ میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس سانحہ ہو گیا۔ بی ایس پی صدر مایاوتی کے ساتھ سماجوادی پارٹی کارکنوں نے بدسلوکی کی تھی۔ اتحاد ٹوٹ گیا اور بی جے پی کے تعاون سے مایاوتی پہلی بار وزیر اعلی بن گئیں۔ تب ہی سے ایس پی اور بی ایس پی کے تعلقات تقریباً نہ کر برابر ہی رہے ۔لوک سبھا کی دو سیٹوں پر ہو رہے ضمنی انتخابات میں اگر بی ایس پی،ایس پی کی حمایت کرتی ہے تو ریاست کی سیاست میں اس کے دور رس نتائج ہونے کا امکان ہے ۔ سیاسی امور کے ماہر راجندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ بی ایس پی ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار نہیں کھڑا کرتی ہے ، اورا ضمنی انتخابات میں اگر بی ایس پی ،ایس پی کو حمایت دیتی ہے تو ابھی سے اس کا یہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے کہ 2019 میں دونوں پارٹیاں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔ اترپردیش کی گورکھپور اور پھول پور پارلیمانی سیٹ پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے امیدواروں کو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی حمایت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔بی ایس پی کی طرف سے ایس پی امیدواروں کو حمایت دینے کا اعلان آج دوپہر بعد مقامی سطح پر کیا جاسکتا ہے ۔ بی ایس پی کے ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں پارٹی صدر مایاوتی نے گورکھپور اور الہ آباد کے زونل کوارڈینٹروں کو ہدایت دی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی جیت کے رتھ کو روکنے کے لئے اتر پردیش میں یہ دونوں بڑی پارٹیاں ایک ساتھ آ سکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT