Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بی ایس پی کے ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئے: مایاوتی

بی ایس پی کے ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئے: مایاوتی

پیپر بیالٹ سے دوبارہ چناؤ کا چیلنج۔ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ختم کرنیکا قانون لائیں ۔ راجیہ سبھا میں مطالبہ

نئی دہلی ، 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے آج بی جے پی کو چیلنج کیا کہ اترپردیش میں اگر اسے عوام کے خط اعتماد کا اتنا ہی بھروسہ ہے تو کاغذی بیالٹس استعمال کرتے ہوئے اسمبلی چناؤ منعقد کرائے، اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمز) کے استعمال کو منسوخ کرنے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اترپردیش اور اترکھنڈ میں حالیہ اختتام پذیر انتخابات ’’عوام کا فیصلہ نہیں بلکہ ای وی ایمز کا فیصلہ ‘‘ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اُن کی پارٹی نے قاعدہ 267 کے تحت نوٹس دے کر معمول کے کام کی معطلی چاہی ہے تاکہ یہ مسئلہ پر بحث کی جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ جب کانگریس برسراقتدار تھی، سینئر بی جے پی قائدین نے ای وی ایمز کے استعمال پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مشینوں کو استعمال کرتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ اب جبکہ بی جے پی کی حکومت ہے، وہ ای وی ایمز کی مدافعت کررہے ہیں، اور کہا کہ دنیا کی بڑی جمہوریتیں ووٹ ڈالنے کیلئے پیپر بیالٹ کا استعمال کرتی ہیں۔ مایاوتی نے یہ الزام بھی عائد کردیا کہ اُن کی پارٹی کے حق میں ڈالے گئے ووٹ ناقص یا بگاڑے گئے ای وی ایمز کے ذریعہ بی جے پی کے کھاتے میں ڈال دیئے گئے۔ ’’اگر آپ کا ضمیر اتنا ہی صاف ہے تو کیوں نہ پیپر بیالٹ استعمال کرتے ہوئے (دوبارہ) انتخابات کرائے جائیں۔‘‘ اس پر سرکاری بنچوں کی طرف سے اُن کے خلاف نعرے بازی ہوئی۔
بلدی ٹیکس کی عدم ادائیگی، ممبئی کے ایک پولیس اسٹیشن کو قفل ڈال دیا گیا
ممبئی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں پاؤن پولیس اسٹیشن پہنچنے والے افراد عجیب و غریب صورتحال سے دوچار ہوگئے کیونکہ مقامی مجلس بلدیہ نے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر گذشتہ روز اس پولیس اسٹیشن کو مقفل کردیا تھا۔ ضلع باندرہ میں اس پولیس اسٹیشن کے عہدیدار نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’بلدی حکام نے پولیس اسٹیشن کو مہربند کردیا جب ہم اس کو 1.19 لاکھ روپئے مالیتی بلدی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام ہوگئے تھے‘‘۔ اس عہدیدار نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق 2013ء سے ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر سے مداخلت کی درخواست پر دو گھنٹے بعد مہر کو توڑ دیا گیا۔ اس دوران جو لوگ شکایت درج کروانے پولیس اسٹیشن پہنچے تھے انہیں باہر کھڑے انتظار کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT