Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ’ بی ایس پی ہی یو پی میںبی جے پی کو شکست دے سکتی ہے ‘

’ بی ایس پی ہی یو پی میںبی جے پی کو شکست دے سکتی ہے ‘

LUCKNOW, JAN 15 (UNI):- BSP chief Mayawati addressing a press conference at party office in Lucknow on Sunday. UNI PHOTO-27U

مودی حکومت کیلئے بڑا دھکہ ہوگی ، مایاوتی کی پریس کانفرنس
لکھنؤ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے اپنی ریاست کے ووٹرس کو آج خبردار کیا کہ ایس پی۔ کانگریس اتحاد یا متحدہ ایس پی اُترپردیش میں بی جے پی کو اقتدار پر آنے سے نہیں روک سکتے اور صرف ان کی پارٹی (بی ایس پی) ہی اترپردیش میں زعفرانی جماعت کو شکست کے ساتھ مرکز میں مودی حکومت کو زبردست دھکہ دے سکتی ہے تاکہ وہ (مودی حکومت) نوٹ بندی جیسے ناپختہ کار قدم اٹھا نہ سکے۔ مایاوتی نے آج اپنی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آنے والے انتخابات کئی پہلوؤں سے نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔ بی ایس پی اگر اترپردیش میں پوری اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آتی ہے تو وہ بی جے پی اور کسی حد تک مرکزی حکومت کو نوٹ بندی جیسے فیصلے کرنے سے روک سکتی ہے اور ریاست سے ایس پی غنڈوں کے جنگل راج کا خاتمہ ہوجائے گا۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’بی ایس پی ہی واحد جماعت ہے جو اس ریاست میں بی جے پی کی پیش قدمی کو روک سکتی ہے۔ ریاست میں اس (بی ایس پی) کی حکومت، بی جے پی کیلئے ایک بڑا دھکہ ثابت ہوگی اور وہ (بی جے پی) مرکز میں آسانی کے ساتھ دوبارہ برسراقتدار نہیں آئے گی اور عوام دشمن فیصلوں کی جرأت نہیں کرسکے گی‘‘۔ ایس پی اور کانگریس کے مابین امکانی مفاہمت کی قیاس آرائیوں کے درمیان مایاوتی نے یہ واضح کردیا کہ ان کی پارٹی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے طور پر انتخابات لڑیں گے، کسی سے مفاہمت نہیں کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اُترپردیش کے ووٹروں کو سیاسی حریفوں کے حامیوں اور مخالفین کے انتخابی منشوروں اور مخالفین کی اندرونی سازباز سے چوکس رہنا ہوگا۔ بی ایس پی کی سربراہ نے ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ الاثر رہنے کے سبب اس سال اپنی سالگرہ روایتی دھوم دھام اور جوش و خروش کے ساتھ نہیں منائی۔ انہوں نے اکھیلیش حکومت کے مبینہ غنڈہ راج کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایس پی عام طور پر ایک خاندان، ایک علاقہ اور ایک ذات تک محدود جماعت کی حیثیت سے مصروف ہے اور اس کی حکمرانی کی ابتداء سے یہاں جنگل راج جاری ہے لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایس پی۔ کانگریس ایک ایسے داغدار چہرہ کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں جو ایس پی حکومت کے اکھیلیش یادو ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT