Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔پہلے عصمت ریزی کا پھر سسٹم کا شکار ہوئی۔

بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔پہلے عصمت ریزی کا پھر سسٹم کا شکار ہوئی۔

بھائیراچ۔آپ کے خیال میں ایک چودہ سال کی لڑکی کیسی ہوگی؟وہ اسکول جارہی تھی ‘ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے کودتے‘ آئینہ میں خود کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

مگر کیاآپ یہ سونچیں گے ایک چودہ سال کی لڑکی عصمت ریزی کی وجہہ سے پیش ائے حمل کی وجہہ سے اپنے پیٹ میں بچہ پال رہی ہے او رملک کی کسی بھی تنظیم کو اس کی فکر نہیں ہے۔

دہلی سے 680کیلومیٹر اترپردیش کے بھائیراچ ضلع کے گاؤں میں رہتی ہے وہ لڑکی جس کی عصمت ریزی کی گئی اور وہ دیڑھ سال قبل ماں بن چکی ہے۔جون2016کی بات ہے جب اس بچی کا پیٹ نظر آنے لگاتھا۔ اس سے پڑوسی عورتوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا؟۔

اس وقت پتہ چلا کہ اس کے پیٹ میں پل رہا بچہ عصمت ریزی کا نتیجہ ہے۔الزام گاؤں کے ہی ایک 55سالہ شخص پر لگا۔ جس پر بھروسہ لڑکی کے والد نے اس کے ساتھ لڑکی کو لکھنو بھیجا تھا۔

پتہ او رمتاثرہ لڑکی دونوں ناخواندہ ہیں‘ ماں کئی سال پہلے فوت ہوگئی تھی۔ نہایت غربت کی زندگی ہے ‘ کچا مکان اور ان کے پاس شیڈول کاسٹ کا شناختی کارڈ تھا۔

والد نے بڑی بہن کی شادی تو جیسے تیسے کردی ۔ لیکن اب اس کی شادی والد کے لئے فکر کی وجہہ بنتی جارہی تھی۔ اس شخص نے والد سے کہاکہ لکھنو میں غریب لڑکیو ں کی شادی کے لئے سرکار سے پیسے مل جاتی ہیں ‘ اسلئے بیٹی کو اس کے ساتھ بھیج دے تاکہ کچھ معاشی مدد مل جائے۔

والد نے کہاکہ ’’ مدت تودور کی بات ہے کہ اس نے میری بیٹی کو لکھنو لے جاکر چاقو کی نوک پر اس کے ساتھ عصمت ریزی کی۔ یہاں تک کہ گھر واپس آتے وقت بھی اس نے یہ گھناؤنہ کام کیا‘‘۔

گھر واپس آکر تو لڑکی نے ڈر کے مارے کسی سے کچھ نہیں کہا‘ لیکن جب کہانی پتہ چلی تو چھ مہینے بعد متاثرہ کے والد نے 24جون2016کو قریب کے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی اور مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔

قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی شیڈول کاسٹ کے ساتھ جرم کرتا ہے تو اس کو فوری ضمانت نہیں مل سکتی ۔ اس کوگرفتار کرنے کے بعد ضمانت دینا یانہیں دینا عدالت پر منحصر کرتا ہے۔

لیکن دوسال بعد بھی اس کیس میں نہ تو کوئی گرفتاری کی گئی ہے او رنہ ہی معاشی مدد کے طور پر متاثرہ کو کوئی معاوضہ ادا کیاگیا۔ اسی دوران لڑکی نے بچے کو جنم دیدیا۔

جس خاندان کی زندگی پہلے سے مشکل میں گذر رہی تھی اس کو اب ایک اور بچہ کی پرورش کرنا تھا۔ اب معاملہ نومولود کے ڈی این اے پر آکر ٹکاتاکہ ملزم کے خلاف ثبوت فراہم کیاجاسکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آج بھی اس ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔

ہمارے نظام میں ہرسطح پر عصمت ریزی کا شکار کی مدد کے لئے سخت قانون بنائے گئے ہیں۔ قانونی ادارے قائم کئے گئے ہیں مگر کیاوہ ہر مرتبہ متاثرہ کی حمایت میں کام کرتے ہیں؟۔

ایک شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والی چود ہ سال کی نابالغ لڑکی کے پیٹ میں چھ ماہ کا بچہ پل رہا ہے یہ خبر سنتے ہیں کہ قومی ‘ ریاستی یا پھر ضلعی سطح کے کسی بھی ادارے کو اس کی مدد کے لئے وہاں پہنچ جانا چاہئے تھا۔

مگر اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی متاثرہ لڑکی مدد کی منتظر ہے۔متاثرہ لڑکی اور اس کے والد سے ملاقات اور پھر جہاں پر مقدمہ درج کیاگیا ہے وہاں کے پولیس اسٹیشن کا بھی اس ضمن میں جائزہ لیاگیا۔

مذکورہ پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او ایک خاتون افسر تھیں۔ وہ اس وقت مقامی لیڈروں کے کسی تنازع کو الجھانے میں مصروف تھیں۔ پھر بھی انہو ں نے کچھ منٹ نکال کر مجھ جو جانکاری دی کہ مقدمہ سرکل افیسر کی نگرانی میں ہے۔

دوپہر کے قریب دو بجے جب بھائیراچ کے سرکل افیسر کے دفتر پہنچے جب افسر تو موجو دنہیں تھے۔ ان کے اسٹنٹ نے بتایا کہ لکھنو میں ڈی این اے جانچ سے متعلق 5500مقدمہ زیرالتوا ہیں اگر بنا رپورٹ کے کسی کی گرفتاری کس طرح کریں۔

اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ شیڈول کاسٹ قانون کے مطابق کیا متاثرہ کو کوئی معاوضہ ادا کیاگیا ہے؟ انہوں نے قبول کیاکہ ایف ائی آر اورمیڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر شیڈول کاسٹ طبقے کے متاثرین کو پچاس فیصد معاوضہ کی رقم فوری ادا کردی جاتی ہے۔

اپریل2016میں مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے نئے قانون کے مطابق شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کی عصمت ریزی کی شکار کو مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیاجاتا ہے۔ اگر وہ اجتماعی عصمت ریز ی کاشکار ہے تو یہ رقم سوا اٹھ لاکھ روپئے تک چلی جاتی ہے۔

اس کے مطابق مذکورہ متاثرہ ڈھائی لاکھ روپئے کی حقدار ہے۔ لیکن اس معاملے میں کوئی معاوضہ نہیں دیاگیا لہذا اسٹنٹ نے مجھے ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے پڑوس کے کمرے میں بیٹھے ساتھی پولیس جوانوں کو آواز لگانے لگتے ہیں۔

جب معاوضہ ادا کرنے والے پولیس عہدیداروں کے سامنے میں نے وہی سوال دہرایا تو انہو ں نے کہاکہ تحقیقات کرنے والے جب لکھ کر دیں تب ہی ہم رقم جاری کرسکتے ہیں۔

لہذا اب بات پھر دوبارہ سرکل انسپکٹر کے دفتر پہنچ گئی تھی۔ جب میں نے دونوں کو آمنے سامنے کیاتو سی ائی کو اسٹنٹ نے کہاکہ ’’ ویسی تو دوسال پہلے ہی معاوضہ بھیج دینا چاہئے تھا‘ لیکن کوئی بات نہیں ‘ کل معاوضہ دیدیتے ہیں‘‘۔

جتنے ہلکے انداز میں یہ بات کہی گئی تھی یہ بات اتنی چھوٹی نہیں تھی۔ اگر یہ معاوضہ اس غریب لڑکی کو ملتا تو اس سے وہ اپنا علاج کرالیتی ۔ قانونی مدد یا اپنے بچے کے لئے اس کا استعمال کرسکتی تھی۔ اس بات کو لاپرواہی یا بھول بھی کہاجاسکتا ہے۔

مگر پولیس کی تحقیقات میں متاثرہ اوراس کے والد کے ناخواندہ اور وسائل سے محروم ہونے کا فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے ‘ یہ معاملے اس بات کا ایک ثبوت ہے۔متاثرہ کے والد کے مطابق جب عصمت ریزی کا واقعہ پیش آیاتھا اس وقت لڑکی کی عمر محض چودہ سال کی تھی۔ مجسٹریٹ کے سامنے ہوئے بیان کے مطابق بھی اس کی عمر چودہ سال ہی ہے۔

مگر ایف ائی آر میں اس کی عمر بیس سال لکھی گئی ہے۔ اگر متاثرہ کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے تو ایف ائی آر اے میں پی او سی ایس او ایکٹ بھی لگانا چاہئے۔اس کیس کے ضمن میں درج ایف ائی آر میں ایسا نہیں کیاگیا ہے۔

اسٹنٹ سے جب میں نے پوچھا تو انہو ں نے دوسال قبل ہوئی میڈیکل جانچ کے کاغذات دیکھائے ۔ متاثرہ کی صحیح عمر کا اندازہ لگانے کے لئے اس کے ہاتھ کے ہڈیوں کی ایکسرے رپورٹ میں ساتھ میں جوڑے گئی تھی اور میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ کی عمر انیس سال لکھی ہوئی تھی۔

رپورٹ کو سرسری انداز میں دیکھنے کے بعد اسٹنٹ سے کہاکہ متاثرہ لڑکی کے گھر والو ں کا دعوی ہے کہ واقعہ کے وقت اس کی عمر محض چودہ سال کی تھی تو رپورٹ میں اس کی عمر انیس سال ہونا کس طرح ممکن ہے؟۔

انہو ں نے یقین سے کہاکہ ایکسرے رپورٹ تو جھوٹ نہیں کہہ سکتی ۔ غور سے رپورٹ کی جانچ کرنے پر پولیس کی تحقیقات میں شکوک وشبہات نظر ائے۔دراصل متاثرہ کی عمر کا پتہ لگانے کے لئے جب میڈیکل کارڈ بنایاگیا تھا تب اس پر ایکسرے کا نمبر کالی سیاہی سے1278لکھا گیاتھا ۔

لیکن رپورٹ کے ساتھ لگاگئے ایکسرے کا نمبر1378لکھا ہوا تھا۔ ایک دن بعد کی بھی فائیل میں ایکسرے کا نمبر1378کو نیلی سیاہی سے 2کو تین بنادیاگیاتھا۔ فائل رپورٹ بھی نصف نیلی سیاہی سے لکھی ہوئی اور نصف کالی سیاہی سے لکھی ہوئی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے انگوٹھے کے نشان بھی اس پر لئے گئے ہیں۔

ان سب کی جانچ کے بعد جب اسٹنٹ او رریکارڈ روم میں بیٹھے پولیس جوان سے پوچھا گیاکہ اتنی بڑی دھاندلی کو کس طرح نذر انداز کیاگیا؟ تو اس کا جواب دینے کے بجائے ان لوگوں نے پوچھا کہ کیس کے متعلق جانکاری کس نے دی۔

یہاں تک کہ ایف آئی آر 24جون2016کو درج ہوئی اور متاثرہ کی مجسٹریٹ کے سامنے 25دن بعد یعنی 19جولائی 2016کومتاثرہ کا بیان درج کرایاگیاحالانکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متاثرہ کا بیان چوبیس گھنٹوں کے اندر درج ہوجانا چاہئے۔

کسی بھی طرح کی تاخیر کی ٹھوس وجہہ پولیس کو مجسٹریٹ کے سامنے تحریر میں دینی پڑتی ہے۔ متاثرہ کے والد کو پولیس کی جانچ پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ ان کا الزام ہے ملزم نے پیسے کے دم پر ہر طرح سے جانچ کو متاثر کیاہے۔

حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ متاثرہ کے وکیل نے بھی اس گڑبڑ کو نہیں پکڑا او رنہ ہی معاوضہ کے لئے اب تک کوئی درخواست دی ہے۔

جب پولیس اور قانون سے مایوس ہوئے تو متاثرہ کے والد نے گاؤں کے مکھیا کی مدد سے ملک کے گیارہ اہم عہدوں پر فائز لوگوں اور اداروں کو چھٹی لکھ کر مدد کی گوہار لگائی ‘ لیکن دوسال میں کوئی ان کے پاس نہیں پہنچا۔

وزیراعظم‘چیف منسٹر‘ ضلع صدر‘ ریاستی انسانی حقوق کمیشن آیوگ‘ ریاستی شیڈول کاسٹ وشیڈل ٹرائب ایوگ‘ ٹرانسپورٹ منسٹر‘ رکن اسمبلی‘ قومی وریاستی مہیلا کمیشن‘ ڈی ائی جی ان سبھی کو بھیجی گئی درخواستوں کی کاپیاں موجود ہیں۔

بھائیراچ سے واپس آنے آکر3جون 2018کو بھائیراچ کے ضلع سربراہ مالا شریواستو کو معاملے کی پوری جانکاری بذریعہ فون دی او راس ضمن میں ایک ای میل بھی روانہ کیا۔ ایک ہفتہ بعد جب ان سے دوبار فون کرکے اس کے متعلق جانکاری حاصل کی تو انہوں نے صرف اتنا کہاکہ تحقیقات کررہی ہوں۔

معاوضہ کے متعلق پوچھنے پر انہو ں نے بتایاکہ متعلقہ محکمہ کو اس کی جانکاری دیدی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کیاقدم اٹھایا پوچھنے پر انہو ں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس کے بعد اترپردیش کے ریاستی شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب کمیشن کے صدر سابق ڈی جی پی باجو لال کو میں نے واقعہ کی فون پر جانکاری دی ۔

انہو ں نے کہاکہ متاثرہ خاندان کو ان کے لکھنو دفتر روانہ کردیں۔ میں نے ان سے کہاکہ متاثرہ خاندان ناخواندہ او روسائل سے محروم ہے کیاآپ کے کمیشن سے کوئی ان کے پاس جاسکتا ہے ؟ انہو ں نے صاف انکار کردیا۔

انہو ں نے کہاکہ ان کے پاس کوئی رکن یا نمائندہ نہیں ہے جو متاثرہ خاندان سے جاکر ملاقا ت کرے۔ پولیس نے ایک معصوم بچی کے مقدمہ میں کس طرح کاروائی کی اس کی ایک جھلک مجھے سرکل افیسر کے دفتر میں دیکھنے کو ملی ۔

وہاں ہر کمرے میں مجھے دوسرے کمرے کا راستہ دیکھایا گیا۔ میری موجودگی میں انہیں مدد کا بھروسہ دلایاگیا مگر یہ رپورٹ لکھتے وقت کسی نے بھی متاثرہ خاندان سے رابط تک نہیں کیا۔یہ بھی حیران کن بات ہے کہ ایک غریب ناخواندہ اور کمزور عصمت ریزی کا شکار کو عہدیداروں کی جانب سے کس حد تک نظر انداز کیاجاسکتا ہے۔

جب وہ پولیس کے پاس گئے‘ جب وہ میڈیکل افیسر کے پاس گئے‘ جب وہ وکیل کے پاس گئے اور جب مدد کے لئے درجن بھر ادارو ں سے گوہار لگائی ۔ مدد کہیں سے نہیں ائی۔

میرے پوچھنے پر پتہ چلاکے معاشی مدد کے متعلق متاثرہ خاندان کو معلوم نہیں تھا او ر کسی عہدیدار نے بھی انہیں اس کے متعلق جانکاری نہیں دی ۔نہ تو ملزم کو گرفتار کیاگیا او رنہ ہی ڈی این اے رپورٹ ائی‘ نا معاوضہ ملا او رنہ علاج ہوا ‘ یہا ں تک قانونی مدد بھی نہیں ملی۔ رشتہ دار کے جس لڑکے نے اسپتال کا خرچ اٹھایا ہے ‘ اب پکر پور میں اسی کی پتنی کے طور پر متاثرہ بنا اپنے بچے کے اسی کے ساتھ رہتی ہے۔

متاثرہ کا باپ مزدوری کرکے اس بچے کی پرورش کررہا ہے۔ خاندان کاکہنا ہے کہ جب معاملہ سامنے آیا تو ملزم نے پندرہ ہزار روپئے دیکر حمل ساقط کرانے کی بات کہی تھی ۔ یہاں تک کہ متاثرہ کی کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے۔

متاثرہ کے تحفظ کو لے کر بھی کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایاگیا۔ اسی اپنے جرم کا سامنا بار بار کرنا پڑا۔اس کیس میں اب تک کوئی چارچ شیٹ بھی داخل نہیں کی گئی ہے۔ بنا ڈی این اے رپورٹ کے دو سال میں بھی مقدمہ شروع نہیں ہو پایا ہے۔

مان لیاجائے کہ متاثرہ کی عمر واقعہ کے وقت اٹھارہ سال سے زیادہ بھی تھی ‘ کیاتب متاثرہ کوانصاف نہیں ملے گا؟۔ یہ صرف ایک معاملہ نہیں ہے‘ جہاں پر عصمت ریزی کاشکار متاثرہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہورہا ہے۔ ایسے واقعات کوٹی وی نیوز کی فٹافٹ خبروں میں پندرہ سکینڈ کی جگہ ملتی ہے‘ لیکن ان کے مقدمہ اور اس پر کاروائی کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔

بشکریہ
بی بی سی نیوز نمائندہ سوارپریہ سنگوان
ترجمہ سیاست ویب ٹیم

TOPPOPULARRECENT