بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل میں بھی دہشت گرد

چیف منسٹر کرناٹک کا الزام، مرکزی حکومت کو رپورٹ روانہ کرنے سدارامیا کا اعلان
بنگلورو ۔ 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے آج الزام عائد کیا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل میں بھی دہشت گرد موجود ہیں۔ ان کے ایک الزام کو بھگوا پارٹی نے بکواس قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سدارامیا نے کہا کہ وہ خودکو ایک طرح سے دہشت گرد ظاہر کرتے ہیں۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے کارکن برسراقتدار کانگریس پر تنقید کرتے ہیں جو ان کی سب سے بڑی حریف ہے۔ ان کی تنقید جاریہ سال کے اوائل میں مقرر ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پیش نظر ایک نئی پستی میں اتر گئی ہے۔ تبصرہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی بی جے پی نے سدارامیا پر الزام عائد کیا کہ وہ مایوسی کے عالم میں انتخابات فرقہ وارانہ خطوط پر صف بندی کے ذریعہ کروانا چاہتے ہیں اسی لئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رہے ہیں۔ ضلع چام راج نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران چیف منسٹر نے کہا تھا کہ حکومت دہشت گرد سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گی چاہے اس میں ملوث ہونے والا کوئی بھی ہو۔ چاہے اس کا تعلق پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)، سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (سی ڈی پی آئی)، بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد یا کسی اور تنظیم کو ہو، اگر وہ معاشرہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اخوت کو تباہ کرنے کی کوشش کریں اس سوال پر کہ کیا وہ اس کی مرکز کو رپورٹ روانہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی دہشت گردی میں ملوث ہو تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ اپنے ٹوئیٹر تحریر میں ریاستی بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر سدارامیا انتخابات فرقہ وارانہ خطوط پر منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو فرقہ وارانہ تنظیمیں قرار دے رہے ہیں۔ انہیں اس کا احساس نہیں ہیکہ ہندوستان 1971ء میں کیا تھا آج اندرا گاندھی وزیراعظم نہیں ہیں۔ چیف منسٹر پر جوابی وار کرتے ہوئے سینئر بی جے پی قائد اور رکن کونسل وی سومنا نے کہا کہ سدارامیا اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ آر ایس ایس نے قوم کو بہت کچھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹرس اور سدارامیا کے معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے والے ریاستی عوام ان سے اپنے اس تبصرہ سے دستبرداری کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ چیف منسٹر پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہ کریں جو ریاست کو کیرالا جیسی صورتحال کی ریاست میں تبدیلی کردینا چاہتے ہیں۔ یہ آپ کیلئے اچھا نہیں ہوگا۔ بی جے پی اسلامی تنظیم پی ایف آئی پر امتناع کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ان کا الزام ہیکہ ریاست میں ساحلی علاقہ ضلع جنوبی کرناٹک میں ہندو کارکنوں کی ہلاکتوں کے واقعات کے اسی تنظیم کا سیاسی شعبہ ایس ڈی پی آئی ذمہ دار ہے۔ پی ایف آئی نے سنگھ پریوار کی تنظیموں پر مسلم طبقہ کے ارکان کو ہلاک کردینے اور اس علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سدارامیا نے بھی انتباہ دیا ہیکہ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کرنے والی تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پی ایف آئی ہی نہیں ہم تمام فرقہ پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے بجرنگ دل اور دائیں بازو کی انتہاء پسند تنظیم رام سینا کے سربراہ پرمود متلک کا بھی نام لیا اور کہاکہ وہ بلالحاظ مذہب و ملت تمام انتہاء پسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے اور مرکزی حکومت سے ان پر امتناع عائد کرنے کی سفارش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT