Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / بی جے پی ‘آر ایس ایس کی ترجمان

بی جے پی ‘آر ایس ایس کی ترجمان

چہرہ ہے میرا  لیکن ہے صرف اک مکھوٹا
کوئی اور بولتاہے میری زباں نہ سمجھو
بی جے پی ‘آر ایس ایس کی ترجمان
ملک میں تقریبا دو سال قبل جب نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت بنی ہے اس وقت سے آر ایس ایس نے اپنے عزائم آشکار کرنے شروع کردئے اور ہندوستانی سماج کے ہر گوشہ پر اپنی گرفت بنانے کی تگ و دو میں جٹ گئی ہے ۔ خود آر ایس ایس کا یہ ادعا ہے کہ گذشتہ ایک سال میںاس نے کافی وسعت اختیار کی ہے اور اس کے حلقہ اثر میںبھی اضافہ ہوا ہے ۔ ایسا تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت کا ہر اہم فیصلہ سنگھ کے ہیڈ کوارٹرس ناگپور سے کیا جاتا ہے اور حکومت اس پر محض عمل آوری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ خاص طور پر بہار کے اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کی شکست کے بعد اس نے عملا آر ایس ایس کے آگے گھٹنے ٹیک دئے ہیں۔ بہار انتخابات کے دوران جس طرح سے سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے تحفظات کے حساس ترین مسئلہ پر متنازعہ بیان دیا تھا اس کے اثرات نتائج کی صورت میں سامنے آئے تھے ۔ بعض حلقوں کا یہ تاثر بھی ہے کہ اس وقت تک نریندر مودی اپنی شخصیت پرستی میں مصروف تھے اور وہ سنگھ کے مشوروں بلکہ ہدایات وغیرہ کو بھی نظر انداز کر رہے تھے ۔ ایسے میں سنگھ نے صرف ایک بیان کے ذریعہ انہیں سیاسی میدان میں اپنی اہمیت سے واقف کروادیا تھا ۔ اس کے بعد سے بی جے پی ملک اور ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی پرواہ کئے بغیر ناگپور سے ملنے والی ہدایات اور احکامات پر عمل آوری کو اولین ترجیح دینے میں مصروف ہے ۔ نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ملک کو درپیش سنگین مسائل پر توجہ دینے سے زیادہ سنگھ کی ہدایات پرعمل آوری میں مصروف نظر آ رہی ہے اور حکومت کے قیام کے بعد سے سنگھ خود کو ماورائے دستور اتھاریٹی سمجھنے لگی ہے ۔ خود حکومت کے وزرا اور دوسرے اہم حلقے بھی سنگھ کو ماورائے دستور اتھاریٹی تسلیم کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی بھی گوشے سے آر ایس ایس پر تنقید ہوتی ہے یا اسے نشانہ بنایا جاتا ہے خود سنگھ سے زیادہ بی جے پی چراغ پا دکھائی دیتی ہے ۔ حکومت کے وزرا سب کام کاج چھوڑ کر سنگھ کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کے بیان پر پارٹی کی تنقیدوں اور تبصروں سے ملتی ہے ۔
راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ جس طرح سے آئی ایس کی مخالف کی جاتی ہے اسی طرح سے آر ایس ایس کی مخالفت بھی کی جانی چاہئے ۔ ان کی پارٹی دونوں کی مخالف ہے ۔ سنگھ پریوار کی تنظیموں پر اکثر و بیشتر کانگریس قائدین کی جانب سے تنقیدیں ہوتی رہتی ہیں لیکن غلام نبی آزاد نے اپنی تقریر میں سنگھ کو عالمی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کی صف میں لاکھڑا کیا ہے اور اسی وجہ سے خود سنگھ اور بی جے پی دونوں ہی چراغ پا ہوگئے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے جو تقابل کیا ہے وہ ایک الگ مسئلہ ہے اور اس پر کسی طرح کے تبصرہ کی بجائے اس پر بی جے پی کا رد عمل قابل غور ہے ۔ آر ایس ایس اس ملک کی ایسی تنظیم ہے جس پر سماج میں زہر گھولنے کا الزام ہے ۔ اس تنظیم پر ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ قوم مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کئے جاچکے ہیں اور اس پر امتناع بھی عائد کیا جاچکا تھا ۔ اب اگر بی جے پی ‘ اس تنظیم کو اپنے لئے ہدایات کا سرچشمہ مانتی ہے تو یہ اسکی اپنی سوچ ہے ۔ ملک کے کروڑہا عوام اس تنظیم اور اس کے ایجنڈہ کی تائید نہیں کرتے ۔ اس کی سرگرمیوں پر تشویش پیدا ہوتی ہے ۔ ملک کی اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول اسی تنظیم کے نام سے پیدا کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں اگر کسی گوشے سے اس پر تنقید ہوتی ہے تو اس کا جواب دینا ملک کی برسر اقتدار جماعت کا کام نہیں ہے ۔ خود سنگھ یا اس کی ہم قبیل تنظیمیںایسی تنقیدوں کا جواب دیتی آ ئی ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ سنگھ پر شدید نوعیت کی تنقید ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے بھی شدید تنقیدیں تنظیم پر ہوتی رہی ہیں۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے وہ حکومت کے کام کاج پر توجہ دینے اور ملک کو درپیش اہم نوعیت کے حامل اور سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے پر کام کرے ۔ کسی تنظیم کی ترجمان بن جانا اس کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ آر ایس ایس سے اپنے الحاق اور وابستگی کو یقینی طور پر بی جے پی فخریہ طور پر پیش کرتی رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ تنظیم ملک پر حکومت نہیں کرسکتی ۔ حکومت کرنے کا حق عوام نے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کو دیا ہے ۔ بی جے پی کو حکمرانی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کسی تنظیم کی ترجمانی کرتے ہوئے عوام سے ملنے والے ووٹوں کی اہمیت کو گھٹانے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ آر ایس ایس کی ترجمانی کرتے ہوئے بی جے پی یا اس کے قائدین یا پارٹی میں سنگھ کے نمائندوں کو ملک کے عوام کی اکثریت اور خاص طورپر اقلیتی طبقات کے جذبات و احساس کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT