Saturday , November 18 2017
Home / سیاسیات / بی جے پی اقتدار پر آنے کے بعد زہریلا ماحول

بی جے پی اقتدار پر آنے کے بعد زہریلا ماحول

جے این یو ، روہت ویمولا خودکشی اور دیگر واقعات کا حوالہ، کل جماعتی اجلاس میں اپوزیشن کا سخت موقف
نئی دہلی ۔ 16 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ کے 23 فروری سے شروع ہورہے بجٹ سیشن کے سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے آج کل جماعتی اجلاس طلب کیا تاکہ ایوان کی کارروائی کو موثر انداز میں چلانے کیلئے اپوزیشن کا بھرپور تعاون حاصل ہوسکے۔ اس اجلاس میں جے این یو کے حالیہ واقعات چھائے رہے۔کانگریس لیڈرغلام نبی آزاد نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہاکہ ملک کا ماحول بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد زہریلا کردیا گیا ہے اور اِس کی حکومت نے ایسے خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اجلاس میں ترنمول کانگریس نے جی ایس ٹی بِل کی منظوری پر اصرار کیا۔ جے ڈی یو کے صدر شرد یادو نے کہاکہ پارلیمنٹ کی کارروائی بلا رکاوٹ جاری رہنی چاہئے اور مسائل پر وہاں مباحث ہونے چاہئے۔ غلام نبی آزاد کے ساتھ سینئر پارٹی قائد آنند شرما نے بھی دعویٰ کیاکہ اُن کی پارٹی کا ہمیشہ سے یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ بلز اُن کی بہتری کی بنیاد پر منظور کئے جانے چاہئیں لیکن اگر پارلیمنٹ میں تعطل ہو تو حکومت کو اِس کی وجوہات معلوم کرنا چاہئے

اور اِن کی یکسوئی کرنا چاہئے۔ کنہیا کا دفاع کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ وہ دستور کے خلاف تقریر نہیں کررہے ہیں اور نہ ملک کی یکجہتی کے مخالف ہیں لیکن غداری کے الزام میں کنہیا کمار کی گرفتاری ناانصافی ہے۔ اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے تھی جنھوں نے ملک کا ماحول زہریلا بنادیا ہے۔ کانگریس قائدین نے بھی دلت اسکالر کی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں خودکشی کا تذکرہ بھی کیا اور کہاکہ اے بی وی پی کی ایماء پر مبینہ طور پر اُس پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اے بی وی پی بی جے پی کا طلبہ شعبہ ہے۔ اروناچل پردیش گورنر کے فیصلہ کے نتیجہ میں صدر راج نافذ کیا گیا۔ اِس سوال پر کہ اِن کی پارٹی کا جی ایس ٹی بِل کے بارے میں کیا موقف ہے،

غلام نبی آزاد نے کہاکہ اِس بل پر اجلاس میں تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے وضاحت کی کہ حکومت کا موقف جواہرلال نہرو یونیورسٹی تنازعہ کے بارے میں کیا ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ نعرہ بازی اور پوسٹرس متنازعہ جلسہ میں بلند کئے گئے تھے۔ اُنھوں نے اِسے انتہائی قابل اعتراض قرار دیا۔ بائیں بازو کے قائدین نے کہاکہ اُنھوں نے کئی مسائل بشمول یونیورسٹیوں کے واقعات، اروناچل پردیش میں صدر راج اُٹھائے اور وزیراعظم سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے یونیورسٹیوں میں آج کل کیا ہورہا ہے اِس کا تذکرہ کیا۔ سی پی آئی (ایم) کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔ سیتارام یچوری کو دھمکیاں دی گئیں۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے محمد سلیم نے کہاکہ یہ تمام واقعات حال ہی میں پیش آئے ہیں۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈی راجہ نے مودی سے سوال کیاکہ کیا مرکزی وزیرداخلہ اپنے طور پر کارروائیاں کررہے ہیں یا اُنھیں طلبہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پوری حکومت کی تائید حاصل ہے۔ ڈی راجہ نے کہاکہ وزیراعظم نے کوئی تیقن نہیں دیا۔ صرف مسائل کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔ کئی واقعات پیش آرہے ہیں۔ فطری طور پر جمہوریت کے مندر ’’پارلیمنٹ‘‘ میں شوروغل لازمی ہے۔ مندر کی گھنٹی بجتی ہی رہے گی۔ تلگودیشم رکن پارلیمنٹ ٹی نرسمہا نے کہاکہ وزیراعظم اور مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور نے تمام پارٹیوں سے ایوان کی کارروائی بلارکاوٹ جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT