بی جے پی انتشار پسند سیاست میں ملوث : وزیراعظم

کھومتائی (آسام)،29 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج بی جے پی کو انتشار پسند سیاست چلانے کا مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ اس طرح کی پارٹی ترقی نہیں لا سکتی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے ضلع سبساگر میں یہاں انتخابی جلسہ کو بتایا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ پارٹی جو ایسی سیاست میں ملوث ہو جو ملک کو تقسیم کرتی ہے اس ملک کیلئے ترقی لاسکت

کھومتائی (آسام)،29 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج بی جے پی کو انتشار پسند سیاست چلانے کا مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ اس طرح کی پارٹی ترقی نہیں لا سکتی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے ضلع سبساگر میں یہاں انتخابی جلسہ کو بتایا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ پارٹی جو ایسی سیاست میں ملوث ہو جو ملک کو تقسیم کرتی ہے اس ملک کیلئے ترقی لاسکتی ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف ثقافتوں، مذاہب اور زبانوں کا ملک ہے جہاں بی جے پی تقسیم پسند سیاست میں ملوث ہو رہی ہے۔

’’اُن کی سیاست واحد شخص پر مبنی ہے۔ اُن کے پاس اس ملک کی ترقی کیلئے کوئی مخصوص پالیسیاں نہیں ہیں،‘‘ ڈاکٹر سنگھ نے جلسہ عام میں یہ بات کہی، جو موجودہ ایم پی اور سابق کابینی رفیق بجوئے کرشنا ہانڈیک کی تائید میں باوقار جورہاٹ لوک سبھا حلقہ کیلئے منعقد کیا گیا۔ یو پی اے حکومت کے کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا، ’’ہماری حکومت اس ملک اور اس کے عوام کی بھلائی کیلئے گزشتہ دس سال کام کرتی آئی ہے ۔ یو پی اے حکومت دس سال قبل تشکیل پائی تھی اور تب سے ہم اس ملک اور اس کے عوام کی بہبود کیلئے نہایت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ آپ کی حمایت کے ساتھ ہم ہمارے معاشی اصلاحات اور سماجی انصاف کے اقدامات جاری رکھ سکتے ہیں۔ آپ کی تائید کی وجہ سے ہم عام لوگوں اور مجموعی طور پر اس ملک کی ترقی کیلئے کام کرنے میں کامیاب ہوپائے ہیں‘‘۔ آسام جس کی ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ 23 سال سے راجیہ سبھا میں نمائندگی کی ہے، وہاں اور شمال مشرقی خطہ میں تبدیلیوں کے تعلق سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران انفراسٹرکچر کا فروغ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT