Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / بی جے پی اور آر ایس ایس عوام کو منقسم کرنے کوشاں

بی جے پی اور آر ایس ایس عوام کو منقسم کرنے کوشاں

ایودھیا تنازعہ پر کانگریس، بی ایس پی اور جے ڈی (یو) کا الزام،بی جے پی کی تردید
نئی دہلی ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا میں مندر کے تنازعہ پر آج راجیہ سبھا دہل کر رہ گئی کیونکہ کانگریس، بی ایس پی اور جے ڈی (یو) نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام عائد کیا کہ وہ یو پی کو 2017ء کے اسمبلی  انتخابات سے پہلے ریاستی عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس الزام کو مرکز میں برسراقتدار پارٹی نے مسترد کردیا۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے جے ڈی (یو) کے رکن کے سی تیاگی نے کہا کہ یو پی میں اسمبلی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اظہار فکرمندی کیا کہ دو لاری بھر کر پتھر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے جاریہ ہفتہ پہنچ چکے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں منصوبہ بند ہیں تاکہ ماحول کو فرقہ پرست کشیدگی کا بنایا جائے۔ انہوں نے اخباری اطلاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہنت نریتیہ گوپال داس کی جانب سے شیلا پوجن اس بات کا اشارہ ہیکہ مودی حکومت نے عوام پر ظاہر کردیا ہیکہ مندر جلد ہی تعمیر کیا جائے گا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختارعباس نقوی نے کہا کہ پتھروں کا مندر کی تعمیر کیلئے تراشنے کا کام اس مقام پر جو متنازعہ اراضی سے دیڑھ کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے،

ایک عرصہ سے جاری ہے۔ حکومت اور بی جے پی کا نقطہ نظر یہ ہیکہ تنازعہ کے بارے میں عدالتی فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پتھروں کے تراشنے پر کوئی امتناع عائد نہیں ہے۔ مذہبی قائدین نے جو ایودھیا میں مقیم ہیں، مبینہ طور پر کہا کہ پتھروں کے تراشنے کا  یہ مطلب نہیں کہ مندر تعمیر کیا جائے گا۔ براہ کرم عدالت کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ ہم سب کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے باہر بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ طویل عرصہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کا ایجنڈہ ہے، لیکن حکومت ہند کو عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے لیکن بی جے پی سے زیادہ انہوں نے اپنی کٹر حریف یو پی میں برسراقتدار سماج وادی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا حکم جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا ہے، جس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے تو برسراقتدار پارٹی کی حیثیت سے سماج وادی پارٹی اس کی ذمہ دار ہوگی۔ یو پی کی سابق چیف منسٹر نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی۔ سماج وادی پارٹی کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ ریاست میں برسراقتدار ہے۔ اسے ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ راجیہ سبھا میں یو پی سے کانگریس کے رکن پرمود تیواری نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیاں ایسے مسائل ہر اسمبلی انتخابات سے پہلے خاص طور پر یوپی میں اٹھاتی ہیں چاہے وہ رتھ یاترا ہو یا فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوئی اور سرگرمی جے ڈی (یو) کے صدر شردیادو نے کہا کہ حالانکہ بی جے پی عوام کو ہر بار فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس بار اس کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT