Saturday , December 15 2018

بی جے پی اور ترنمول کانگریس کارکنوں میں جھڑپ،کئی زخمی

کولکتہ ۔ /12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان آج بھگوا پارٹی کے ہیڈکوارٹرس کے روبرو جھڑپ ہوگئی ۔ اس کے علاوہ شہر کے ایک اور مقام پر بھی باہم جھڑپ ہوئی جس کے نتیجہ میں دونوں پارٹیوں کے کئی کارکن زخمی ہوگئے ۔ صدر مغربی بنگال بی جے پی دلیپ گھوش نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں صدر راج نافذ کیا جائے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال میں نظم و ضبط کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے ۔ یہ جھڑپ دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں اس وقت ہوئی جبکہ ترنمول کانگریس کارکن مبینہ طور پر بی جے پی ہیڈکوارٹرس پر سنگباری کررہے تھے ۔ 10.30 بجے دن انہوں نے نعرہ بازی بھی کی ۔ بی جے پی اور ترنمول کانگریس کارکنوں میں جھڑپ کے دوران کئی افراد زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے بموجب کولکتہ ہائیکورٹ نے خصوصی عہدیدار ربی شنکر دتا کو تشدد سے ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ کرنے کیلئے مقرر کیا ہے ۔ بعد ازاں دتا نے عدالت کو اطلاع دی کہ گاڑیوں کے ونڈ اسکرین اور سائیڈ اسکرین چکناچور ہوگئے ۔ جبکہ 25 تا 50 افراد نے محمد علی پارک کے قریب سنگباری شروع کردی ۔ انہوں نے کانچ کی بوتلیں بھی پھینکی تھیں ۔ پولیس کے بموجب زبردست پولیس کا جتھہ مقام واردات پر پہونچ گیا اور صورتحال پر قابو پالیا ۔ گھوش نے الزام عائد کیا کہ ان کی پارٹی کے دفتر پر سنگباری کی گئی اور باہر کھڑی ہوئی گاڑیوں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔ پارٹی کے 10 سے زیادہ کارکن بری طرح زخمی ہوئے ۔ تاہم ترنمول کانگریس کے وزیر پارتھا چٹرجی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے تشدد کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ ریاست کے نظم و ضبط کو متاثر کرنا چاہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ترنمولکانگریس کارکن بی جے پی کے حملے کا نشانہ بنے ۔ ترنمول کانگریس پارٹی کبھی بھی فرقہ پرست طاقتوں کو جیسے کہ بی جے پی ہے ریاست کے نظم و ضبط کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بھی تشدد کی مذمت کی اور بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT