Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / بی جے پی اور فرقہ پرستی کا کارڈ

بی جے پی اور فرقہ پرستی کا کارڈ

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
کبھی تو حوصلہ کرکے نہیں کہا جائے
بی جے پی اور فرقہ پرستی کا کارڈ
نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی سے پریشان حکمراں بی جے پی کو ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں کئی چیلنجس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد بی جے پی کو نئے چیلنجس درپیش ہیں تو اس کی وجہ مودی حکومت کی دو سالہ ناقص کارکردگی مانی جاسکتی ہے۔ مودی کی مقبولیت کا ڈھنڈورہ پیٹ کر لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش کے 80 حلقوں کے منجملہ 71 پر کامیاب ہونے والی بی جے پی کو اب 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں اس طرح کی تاریخی کامیابی رقم کرنے کا یقین نہیں ہے جو پارٹی خود کی کامیابی کا یقین نہیں رکھتی، اسے پہلے سے زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی قومی اور ریاستی پالیسیوں کو دیکھتے اور ان پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر بی جے پی نے اپنے فرقہ پرستانہ نظریہ کو ہی کامیابی کا موثر ہتھیار سمجھا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ اس فرقہ پرستانہ نظریہ کے ساتھ یوپی کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے لئے مہم چلانے پر غور کررہے ہیں۔ الہ آباد میں منعقدہ بی جے پی کے دو روزہ قومی عاملہ اجلاس کی روداد سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کو اپنی نظریاتی نفرت پر مبنی پالیسیوں سے گہرا لگاؤ ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ ملک کو فرقہ پرستانہ ماحول میں جھونک دینے کی کوشش کریں گے۔ وہ اپنی تقریروں میں صرف ترقی کی بات کررہے ہیں جبکہ بی جے پی صدر امیت شاہ فرقہ پرستانہ مسائل کو ہوا دینے کی مہم پر ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی ایک حکمراں پارٹی کے لئے مناسب نہیں ہوتی۔ بی جے پی قیادت چاہتی ہے کہ اترپردیش میں فرقہ پرستانہ کارڈ کھیلا جائے، اس کے ذریعہ ہی انتخابی فائدہ ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کو اترپردیش میں کوئی طاقتور مقامی قیادت یا سیکولر اتحاد کا سامنا نہیں ہے جیسا کہ پڑوسی ریاست بہار میں لالو پرساد یادو اور نتیش کمار کے طاقتور سیکولر اتحاد نے بی جے پی کو شکست دی تھی۔ بہار کے ان دو مضبوط قائدین نے فرقہ پرستی کو ختم کرنے یا فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے سیکولر اتحاد بنایا اور اس میں زبردست کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ یو پی کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ یہاں بی جے پی کو کسی بڑی سیاسی طاقت یا اتحاد کا سامنا نہیں ہے۔ یہاں پر حالیہ برسوں میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج کو ہی اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ دیگر پارٹیوں میں صرف کانگریس اور راشٹریہ لوک دل اور پھوٹ کا شکار پارٹیاں ہیں جن کا باہمی اتحاد بی جے پی یا دیگر پارٹیوں کا متبادل ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر ان پارٹیوں نے اتحاد بنایا تو کامیابی یقینی نہیں ہوسکتی البتہ بی جے پی کی فرقہ پرستانہ حکمت عملی کو ناکام بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ دہلی میں چیف منسٹر اروند کجریوال کی وجہ سے ایک قومی پارٹی کی حیثیت سے بی جے پی کو جس طرح کی سبکی اٹھانی پڑرہی ہے، اسی طرح اترپردیش میں مقامی پارٹیوں کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔ یوپی کی مختلف پارٹیاں اگر بہار کی طرح سیکولر اتحاد بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں تو ہندی پٹی والی ریاستوں سے بی جے پی کے صفایا کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کو کانگریس سے چھٹکارہ دلانے کی مہم چلانے والی بی جے پی کو اگر اترپردیش میں شکست ہوتی ہے تو اس کا قومی وجود کمزور پڑجائے گا۔ الہ آباد کے بی جے پی قومی عاملہ اجلاس کے بعد بی جے پی قائدین کی ساری توجہ یوپی پر مرکوز ہورہی ہے۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ ایک مضبوط ایجنڈہ کی تیاری میں مصروف بی جے پی صدر امیت شاہ نے فرقہ پرستی کا کارڈ استعمال کرنا شروع کیا تو پھر فرقہ وارانہ ماحول ابتر اور کشیدہ ہوگا۔ بی جے پی اس ماحول کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ بی جے پی قومی عاملہ اجلاس کی منظورہ قراردادوں میں بی جے پی نے ہندوستان کے لئے ’’بھارت‘‘ لفظ کا شدت سے استعمال کیا ہے۔ قرارداد کے انگریزی متن میں بھی لفظ ’’بھارت‘‘ ہی لکھا گیا ہے تو پھر یہ طویل مدتی نظریاتی پالیسی کو بروئے کار لانے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنے والی بی جے پی ’’بھارت‘‘ کے نام کے پرچار کے ساتھ اپنا تازہ موقف بھی واضح کررہی ہے کہ ہندوراشٹرا بنانے کی پالیسی پر وہ گامزن ہے۔ دادری بیف کیس ہو یا مظفر نگر فسادات یا پھر لو جہاد اور گھر واپسی مہم، یہ تمام ہتھکنڈے اسمبلی انتخابات میں شدت سے اختیار کئے جائیں گے۔ یوپی میں مسلمانوں کی آبادی قابل لحاظ ہونے کی وجہ سے نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے مسلم ووٹوں کو منقسم کرکے بی جے پی کو فائدہ پہونچایا ہے۔ اگر آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات کے لئے مسلم ووٹوں کو تقسیم ہونے سے روکا جائے تو بی جے پی کے امکانات کم ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT