Wednesday , October 17 2018
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی اور کانگریس، جے ڈی ایس کی تائید کیلئے مجبور

بی جے پی اور کانگریس، جے ڈی ایس کی تائید کیلئے مجبور

علاقائی جماعتوں کا اہم رول، ملک بھر میں کرناٹک جیسی صورتحال ممکن: کے سی آر
حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کہا کہ فیڈرل فرنٹ (وفاقی محاذ) فرنٹ تشکیل دینے ان کا فیصلہ کارآمد اور حوصلہ افزاء ہورہا ہے۔ قومی جماعتیں کانگریس اور بی جے پی کرناٹک میں حکومت تشکیل دینے کیلئے جے ڈی ایس کے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہیں۔ یہی صورتحال سارے ملک میں بن جائے گی اور علاقائی جماعتیں قومی سطح پر اہم رول ادا کریں گی۔ آج پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جے ڈی ایس کی تائید کرتے ہوئے قومی حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ قومی جماعت کانگریس نے حکومت کی تشکیل کیلئے جے ڈی ایس کو غیرمشروط تائید کا اعلان کیا ہے اور بی جے پی بھی جے ڈی ایس کے آگے پیچھے منڈلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتابنرجی نے سونیا گاندھی کے مکان کو پہنچ کر ہماری جانب سے تشکیل دیئے جانے والے فرنٹ میں شامل ہونے کا جرأتمندانہ پیشکش کیا ہے۔ مستقبل میں قومی جماعتیں علاقائی جماعتوں کے سہارے رہیں گی۔ وہ ملک میں ایک تبدیلی کے ساتھ معاشی انقلاب لانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمخیال جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کررہے ہیں۔ چند قائدین سے مشاورت کرچکے ہیں اور مزید چند قائدین سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ تبدیلی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ملک کو ترقی دینے غربت کا خاتمہ کرنے اور پانی کا صحیح استعمال کرنے میں قومی جماعتیں 70 سال حکمرانی کرنے کے باوجود ناکام ہوچکے ہیں۔ وہ ملک کے ماہرین معاشیات کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ویژن فارمولہ ایجنڈہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ ایجنڈے کی تیاری کے بعد اس کو جاری کرتے ہوئے قومی سطح پر موضوع بحث بنایا جائے گا۔ جب فرنٹ کا آغاز ہوگا تو ملک میں بہت بڑی فورس بن کر ابھرے گا جس میں کئی جماعتیں اور قائدین ہوں گے۔ چیف منسٹر نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1976ء سے قبل چین کی معیشت ہندوستان سے کمزور تھی۔ آج چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکی ہے۔ ہندوستان کا مجموعی بجٹ 24 لاکھ کروڑ روپئے کا ہے جس میں 8 لاکھ کروڑ روپئے بطور قرض ادا کئے جارہے ہیں۔ ایرپورٹس، بندرگاہیں، ہائی ویز اور ریلویز کب ترقی کریں گے۔ ملک میں معاشی انقلاب لانے کیلئے اس کی شروعات حیدرآباد اور ریاست تلنگانہ سے ہورہی ہے اس پر فخر کرنے کے بجائے میڈیا میں اس کے بارے میں گمراہ کن تبصرے کئے جارہے ہیں جس سے ان کے بڑھتے قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

TOPPOPULARRECENT