Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / بی جے پی ایک ’’انتہاپسند تنظیم‘‘: ممتا بنرجی

بی جے پی ایک ’’انتہاپسند تنظیم‘‘: ممتا بنرجی

عوام کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے کوشاں، آئندہ لوک سبھا انتخابات میں تبدیلی کے لیے ترنمول کانگریس کی مہم
کولکتہ۔21 جون (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال اور صدر ترنمول کانگریس ممتا بنرجی نے بی جے پی کو ایک ’انتہاپسند تنظیم‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ پارٹی عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی پارٹی (ترنمول کانگریس) پر حملہ کرکے دکھائے۔ ممتا بنرجی زعفرانی پارٹی کی شدید نقاد ہیں۔ وہ بی جے پی کی مخالفت کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بی جے پی ریاست مغربی بنگال میں اپنے لیے ووٹ مضبوط بنانے اور ان میں اضافے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہی ہے۔ انہوں نے پارٹی ورکرس پر زور دیا کہ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کی تیاری کریں کیوں کہ سارا ملک تبدیلی کی جانب دیکھ رہا ہے۔ ترنمول کانگریس بھی عوام کی خواہش کے مطابق ملک میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ ہم بی جے پی کی طرح انتہاپسند تنظیم نہیں ہیں۔ وہ لوگ حجت پسند، مغرور، عدم روادار اور جارحیت پسند ہیں۔ وہ لوگ مذہبی تعصب پسندی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ وہ لوگ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو پسند نہیں کرتے۔

حالانکہ یہ لوگ اعلی ذاتوں اور نچلی ذاتوں کے ہندوئوں کے درمیان فرق پیدا کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے ترنمول کانگریس کے کور کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایک مذہب پرست پارٹی ہے۔ یہ لوگ ہمیں انکائونٹر کرکے ہلاک کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں محض اس لیے کہ دہلی میں ان کا اقتدار ہے۔ یہ لوگ ہم پر بم پھینکنے کی بات کرتے ہیں۔ میں انہیں للکارتی ہوں کہ وہ یہاں آئیں اور مجھے چھوکر دکھائیں، اس کے بعد ہم انہیں ان کی اوقات دکھا دیں گے۔ مغربی بنگال کے بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے منگل کے دن کہا تھا کہ ان کی پارٹی اس بات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی کہ اگر ترنمول کانگریس کے لوگ اس کے ورکرس پر حملہ کریں۔ بی جے پی منہ توڑ جواب دے گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی ایم اور مائوسٹوں نے مل کر مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے خلاف گٹھ جوڑ بنالیا ہے۔ یہ تمام مل کر بھی ہماری طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اقتدار کے حصول کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن ہم اسے ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ اب ملک بھر میں تبدیلی کی لہر شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ لہٰذا پارٹی ورکرس کو چاہئے کہ وہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں لیکن بی جے پی کی عادت بن گئی ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کرکے اپنا ووٹ فیصد بڑھانا چاہتی ہے۔ ہماری پارٹی ورکرس کو چوکس رہنا چاہئے اور بی جے پی کی حرکتوں پر نظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے اسمبلی کے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیا جس میں 30 فیصد الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں مناسب طریقہ سے کام نہیں کرسکیں۔ یہی حالت پورے ملک میں ہو تو بی جے پی کا ووٹ فیصد ضرور بڑھے گا۔

TOPPOPULARRECENT