Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / بی جے پی ‘ ایک اور مظفر نگر کی متلاشی

بی جے پی ‘ ایک اور مظفر نگر کی متلاشی

بی جے پی ‘ ایک اور مظفر نگر کی متلاشی
جیسے جیسے اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے سیاسی جماعتوں کی بے چینیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل اور ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اقتدار حاصل کرنا ہر جماعت کا خواب ہوتا ہے ۔ یہاں گذشتہ سے قبل بی ایس پی نے حکومت بنائی تھی اور گذشتہ مرتبہ سماجوادی پارٹی کو ریاست کے عوام نے موقع دیا تھا ۔ بی جے پی اس ریاست میں اپنے انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کوشاں ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے کم از کم مخلوط حکومت تشکیل دینے کا موقع مل جائے اس کے بعد وہ اپنے قدم ضرور جمانے میں کامیاب ہوجائیگی ۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے بی جے پی کے پاس کوئی ایجنڈہ یا مسائل نہیں ہیں اور وہ صرف فرقہ پرستی کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے ۔ اسی راستے سے چل کر اس نے اتر پردیش میں لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی نے اتر پردیش میں مظفر نگر برپا کیا تھا ۔ مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے ۔ مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ کیا گیا ۔ ان کے مکانات اور دوکانیں نذر آتش کی گئیں اور ہندووں اور مسلمانوں میں نفرت کا بیج بو کر منافرت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے کامیابی حاصل کی ۔ عوام کے ذہنوں میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا اور اپنے مقاصد کی تکمیل کرلی گئی تھی ۔ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی نے اب اسمبلی انتخابات کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں ۔ جس طرح لوک سبھا کیلئے مظفر نگر سے تیاری کی گئی تھی اسی طرح اب کیرانہ سے تیاری کی جا رہی ہے اور نفرت کے ماحول کو گرم کیا جا رہا ہے ۔ کیرانہ شاملی ضلع کا ایک گاوں ہے اور یہاں ہندووں و مسلمانوں کے مابین کبھی نفرت نہیں رہی ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے کیرانہ سے ہندو آبادی کے نقل مقام کا جھوٹا دعوی کرتے ہوئے حالات کو بگاڑنے کی کوشش شروع کی اور کسی تحقیق کے بغیر بی جے پی صدر امیت شاہ نے بھی اس دعوی کی توثیق کردی ۔ امیت شاہ نے اس کو بڑا مسئلہ بنانے کی کوشش کی جبکہ خود حکم سنگھ بعد میں اپنے موقف میں تبدیلی کیلئے مجبور ہوگئے اور کہا کہ یہ فرقہ وارانہ نہیں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے ۔
بی جے پی جھوٹے دعوی کے ساتھ فرقہ وارانہ منافرت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن کیرانہ کا مسئلہ اس کیلئے مظفر نگر جیسے نتائج فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ خود کیرانہ کے عوام اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ آخر کیا بات ہے کہ اچانک ان کے گاوں کو قومی ذرائع ابلاغ میں مرکزی مقام مل گیا ہے اور صحافیوں کی ریل پیل شروع ہوگئی ہے اور سیاسی قائدین نے یہاں ریلیاں نکالنی شروع کردی ہیں۔ جس وجہ سے سارا ہنگامہ برپا کیا جا رہا ہے وہ وجہ یہاں پائی ہی نہیں جاتی اور گاوں والوں کو حیرت ہے کہ آخر کس کے نقل مقام کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہو رہا ہے ۔ گاوں کے ہندووں کا کہنا ہے کہ گاوں میں مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود یہاں کبھی ایک دوسرے کے تئیں منافرت کا ماحول نہیں رہا ۔ ایک دوسرے سے کسی کو مسئلہ درپیش نہیں رہا ۔ یہاں جس طرح عید منائی جاتی ہے اسی طرح دیوالی کا بھی اہتمام ہوتا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے سے خوف نہیں کھاتے بلکہ رشتوں کی مٹھاس کو محسوس کرتے ہوئے زندگی کی تلخیوںکو فراموش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیںاس کے باوجود اچانک بی جے پی اور اس کے قائدین نے یہاں نفرت کا ماحول گرم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور عوام کے نقل مقام کا مسئلہ چھیڑا جا رہا ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ کچھ لوگ یہاں سے ضرور دوسرے مقامات کو منتقل ہوئے ہیں اور یہ فرقہ پرستی کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ لا اینڈآرڈر کے مسئلہ کی وجہ سے ہے بلکہ وہ بہتر روزگار اور متبادل کی تلاش میں دوسرے مقامات کو گئے ہیں۔
یو پی میں انتخابات جیتنے کیلئے بے چین بی جے پی نے اس مسئلہ پہلے حقائق تک معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو فرقہ وارنہ رنگ دینے کا سلسلہ شروع کردیا ۔ بی جے پی نے حقائق کا پتہ چلانے والی ٹیم روانہ کی اور گاوں میں کسی نے اس ٹیم کو اہمیت تک نہیں دی ۔ گاوں والوں سے اس ٹیم نے پانچ منٹ تک بھی بات نہیں کی اور صرف میڈیا میں انٹرویو ز دیتے ہوئے واپس ہوگئے ۔ اس طرح اگر ملک کی حکمران جماعت اوچھی سیاست اور اوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آتی ہے تو یہ اس کیلئے انتہائی شرم کی بات ہے ۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈہ اور پروگراموں کے ذریعہ عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ انہیں اطمینان دلا کر انتخاب جیتے کی کوشش کرے نہ کہ ان میں خوف و دہشت پیدا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT