Monday , September 24 2018
Home / سیاسیات / بی جے پی جلسہ عام کی وجہ سے ٹرینیں تاخیر کا شکار

بی جے پی جلسہ عام کی وجہ سے ٹرینیں تاخیر کا شکار

ریلویز کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز، ٹرینوں کے مسافرین تاخیر کے لئے ذمہ دار ، اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام
ممبئی 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کارکنوں کو پارٹی کے 38 ویں یوم تاسیس کے سلسلہ میں بی کے سی پر مقرر جلسہ عام کے سلسلہ میں خصوصی خدمات کے ذریعہ منتقل کرنے کی وجہ سے کئی ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں اور اُنھیں راستے میں روکنے پر اصرار کیا گیا۔ مغربی ریلوے کے عہدیداروں نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ بی جے پی زیادہ سے زیادہ تعداد میں جلسہ عام کے لئے اپنے کارکنوں کو لانے کے لئے 28 ٹرینیں کرایے پر حاصل کرچکی ہے۔ ان میں سے 11 ڈبلیو آر کی اور 17 سی آر کی ہیں۔ عہدیداروں نے کہاکہ تاہم بی جے پی کارکن مبینہ طور پر اُن کی خصوصی ٹرینیں دو تا پانچ گھنٹے تاخیر سے چلائی گئیں کیوں کہ ریلوے ترجیحی بنیادوں پر اُنھیں نہیں چلا سکتا۔ ریل کارکن سبھاش گپتا جنھیں بی جے پی کی جانب سے ریلوے کے انتظامات کی ذمہ داری دی گئی تھی، توثیق کرچکے ہیں کہ ٹرینیں تاخیر سے آئیں تاہم اُنھوں نے ریلوے کو مورد الزام قرار دینے سے انکار کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ تمام ٹرینیں جو سنٹرل اور ویسٹرن ریلویز کی تھیں، تاخیر سے پہونچیں لیکن ہمیں ریلویز کو مورد الزام نہیں قرار دینا چاہئے کیوں کہ خصوصی ٹرینیں ایک مخصوص مقصد کے لئے چلائی جاتی ہیں اور انھیں ایک مخصوص انداز میں چلایا جاتا ہے تاکہ اُن کا پروگرام باقاعدہ ٹرینوں کے پروگراموں کو متاثر نہ کرے یا اُن کی قیمت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

گپتا نے جو نیشنل ریلویز صارفین مشاورتی کمیٹی کے سابق رکن ہیں، ریلویز کی ستائش کی کہ اُس نے اِس بات کو یقینی بنایا کہ باقاعدہ ٹرینیں خصوصی خدمات کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ گپتا نے اطلاع دی کہ ایک ٹرین جو باندرہ اسٹیشن پر 8 بجے صبح پہونچنے والی تھی، دوپہر ایک بجے پہونچی۔ ریلوے عہدیداروں نے اِس تاخیر کا ذمہ دار مسافرین کو قرار دیا جو مطالبہ کررہے تھے کہ وقت کی پابندی نہ کی جائے اور نندوربار اسٹیشن پر ٹرین کو زیادہ دیر تک روکا جائے۔ موٹر رانوں کو آج صبح مصروف اوقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر اہم مغربی اکسپریس شاہراہ پر جو اندھیری اور باندرہ کے درمیان ہے، کیوں کہ پارٹی کارکن جو جلسہ عام کے لئے سڑک سے گزر رہے تھے، بڑے پیمانے پر ٹریفک میں رکاوٹ کی وجہ بنے تھے۔ ٹریفک پولیس قبل ازیں مشورہ دیتے ہوئے عوام سے خواہش کرچکی تھی کہ اِس راستے سے ممکنہ حد تک گریز کیا جائے۔ بعض اہم سڑکیں جیسے شانتاکروز، چیمبور، لنک روڈ، سروے جنکشن، ایل آر ایس روڈ ، سیان جنکشن، دھاراوی ٹی جنکشن، ہنس بھوگرا، مارگ سی ایس ٹی روڈ، نہرو روڈ، امبیڈکر چوراہے تک شاردا دیوی روڈ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT