Monday , January 22 2018
Home / Top Stories / بی جے پی حکومت کسانوں کی دشمن :کانگریس

بی جے پی حکومت کسانوں کی دشمن :کانگریس

نئی دہلی۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس قیادت نے نریندر مودی حکومت کو آج اپنی سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے نریندر مودی کو کارپوریٹ صنعت کاروں کو دوست اور غریب کسانوں کی دشمن قرار دیتے ہوئے حصول اراضی بل کے مسئلہ پر مرکز کے خلاف بڑے پیمانے پر سیاسی جدوجہد کے آغاز کا اعلان کیا۔ راہول گاندھی نے ا

نئی دہلی۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس قیادت نے نریندر مودی حکومت کو آج اپنی سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے نریندر مودی کو کارپوریٹ صنعت کاروں کو دوست اور غریب کسانوں کی دشمن قرار دیتے ہوئے حصول اراضی بل کے مسئلہ پر مرکز کے خلاف بڑے پیمانے پر سیاسی جدوجہد کے آغاز کا اعلان کیا۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اراضی بل محض اس لئے نافذ کررہے ہیں کہ انہوں نے ان کارپوریٹس کو وہ بھاری قرض لوٹا رہے ہیں جو انہوں (مودی) نے لوک سبھا انتخابات کے موقع پر ان (کارپوریٹ) سے لیا تھا۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اراضی بل کے ذریعہ ان غریب کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑ رہی ہے جو پہلے ہی خشک سالی غیرموسمی بارش و ژالہ باری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ حصول اراضی سے متعلق نئی بل دراصل کسانوں کو بااختیار بنانے کے مقصد سے 2013ء میں یو پی اے حکومت کی طرف سے بنائے گئے قانون کو کمزور کرنے کی ایک کوشش کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔

دو ماہ کی طویل رخصت سے واپس راہول گاندھی کو اُبھارنے کا پلیٹ فارم سمجھی جانے والی آج منعقدہ اس ریالی میں عوام اور بالخصوص کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانگریس قیادت نے اپنے اس عہد کا اظہار کیا کہ صنعت کاروں کو فائدہ پہونچانے کیلئے کسانوں کو کمزور بنانے کی مودی حکومت کی کسی بھی کوشش کے خلاف پوری شدت کے جدوجہد کی جائے گی۔ اس ریالی میں سونیا گاندھی راہول گاندھی اور منموہن سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی گزشتہ کل کے عام انتخابات سے قبل تک بھی عوام اور بالخصوص کسانوں کو باغ دکھایا کرتے تھے لیکن اب وہ کسان دشمن پالیسیاں نافذ کررہے ہیں۔ جس کے خلاف سخت وارننگ دیتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’بس اب بہت ہوچکا ہے‘‘۔ راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی کی جانب سے بیرونی دورہ کے موقع پر ’’گندگی کو صاف‘‘ کرنے سے متعلق کئے گئے ریمارکس کی مذمت کی اور کہا کہ بیرونی سرزمین پر اپنے ملک کی کسی سابق حکومت کے خلاف ایسے تبصرے وزیراعظم کو زیب نہیں دیئے‘‘۔

راہول گاندھی نے رام لیلا میدان پر کسان ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں آپ سے کہتا ہوں کہ مودی جی! کس طرح انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بڑے صنعت کاروں سے ہزاروں کروڑ روپئے کے قرض حال کئے جس کے ذریعہ ان کی انتخابی تشہیر کی گئی‘‘۔ راہول نے مزید کہا کہ ’’اب وہ (مودی) کس طرح یہ قرض لوٹائیں گے۔ وہ آپ کی زمین صنعت کاروں کے حوالے کردیں گے۔ وہ کسانوں کو کمزور بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد کسانوں سے زمینات چھین لیں گے اور اپنے صنعت کار دوستوں کو دیں گے‘‘۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی نے اپنے گجرات ماڈل کے ذریعہ یہ بتادیا ہے کہ بڑی آسانی کے ساتھ کسانوں سے زمینات چھین سکتے ہیں اور صنعت کاروں کو یہ باور بھی کیا تھا کہ وہ سارے ملک میں بھی ایسا کام کرسکتے ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ ’’یہی سے مودی ماڈل جس سے بنیادی کمزور کردی گئیں اور ایک عمارت کو سیڑھی لگا دی گئی جس کو خوبصورت رنگ و روغن کئے گئے اور دنیا کو دکھایا جارہا ہے کہ یہ عمارت چمک رہی ہے حالانکہ درحقیقت اس عمارت کی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں‘‘۔

کانگریس کی طرف سے منعقدہ اس ریالی کو اس لئے نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہورہا ہے جو اراضی بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے تصادم کے سبب غیرمعمولی طور پر طوفان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT