Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / بی جے پی حکومت کے خلاف سی پی آئی (ایم ) کی چھ ماہ طویل عوامی تحریک

بی جے پی حکومت کے خلاف سی پی آئی (ایم ) کی چھ ماہ طویل عوامی تحریک

چندی گڈھ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام )سی پی آئی (ایم ) نے نریندر مودی کے زیر قیادت حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیلئے اس سال اگست سے آئندہ سال مارچ تک ملک گیر ’’جن آندولن ‘‘ (عوامی احتجاج) منظم کیا جائے گا اس موقع پر سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچو

چندی گڈھ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام )سی پی آئی (ایم ) نے نریندر مودی کے زیر قیادت حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیلئے اس سال اگست سے آئندہ سال مارچ تک ملک گیر ’’جن آندولن ‘‘ (عوامی احتجاج) منظم کیا جائے گا اس موقع پر سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے کہا کہ ’’اگست سے مارچ 2016 تک سی پی آئی (ایم) کے کارکن بائیں بازو کے سرکردہ لیڈر آنجہانی ہرکشن سنگھ سرجیت کی صد سالہ یوم پیدائش تقاریب منائیں گے ۔ جس کے تحت ملک بھر میں مختلف پروگراموں کے ساتھ جن آندولن منظم کیا جائے گا ۔ یچوری نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت ‘امریکہ پاسلیوں کی اندھا دھند تقلید کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پارلیمانی اجلاس میں اسٹیڈنگ کمیٹی سے رجوع کئے بغیر50 قوانین ترتیب دیئے گئے ۔ یہ طریقہ کار ملک کیلئے خطرناک ہے ۔

حصول اراضی کے متنازعہ بل کا تذکرہ کرتے ہوئے یچوری نے کہا کہ سی پی آئی (ایم) یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہی بی جے پی جس نے 2013 میں کانگریس کی طرف سے تیار کردہ اس قانون کی تائید کی تھی لیکن اب کیاوجہ ہوگئی کہ وہ (بی جے پی) اس قانون میں تبدیلی لانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حصول اراضی پر سی پی آئی (ایم) کا موقف واضح ہے ۔ اگر کسی کسان کی زمین لی جاتی ہے تو اس کو اراضی کی اس قیمت کا ایک حصہ بھی ادا کیا جائے جو حصول اراضی کے 20 سال بعد ہوسکتی ہے۔ کسانوں کو بھی ان کی زمینات پر شروع کئے جانے والے پراجکٹوں یا کمپنیوں کے حصہ داروں کے طور پر شامل کیاجائے ۔ وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے یچوری نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے صنعتکاروں کے فائدہ کیلئے حصول اراضی کا کیا قانون تیار کیا ہے ۔ دہلی اور اگرہ کے درمیانی یمنا ایکسپریس وے کی مثال دیتے ہوئے یچوری نے کہا کہ صنعتی راہداری کے بہانے ایکسپریس وی کے دو جانب اراضی حاصل کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ’’لیکن ایکسپریس وے پر کوئی صنعت نہیں ہے صرف ریٹیل اسٹیٹ ڈیولپرس وہاں پر فلیٹس تعمیر کررہے ہیں ‘‘۔ مارکسسی قائد نے دعوی کیا کہ خصوص معاشی زونس (ایس ای زیڈ ) کے نام پر گذشتہ پانچ سال کے دوران حکومت کی طرف سے حاصل اراضیات کے منجملہ 52 فیصد اراضیات پر ہنوز کوئی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ ’’کسانوں کو لوٹا جارہا ہے اور ان کی اراضیات ڈیولپرس کے حوالے کی جارہی ہیں‘‘۔ سیتا رام یچوری نے کہا کہ ’’اراضی قانون میں ترمیمات کو اگر مودی حکومت کی طرف سے منظور کیا جاتا ہے تو ایکسپریس وے کی تمام قومی اور ریاستی شاہراہوں کی دونوں جانب ایک کیلو میٹر کا علاقہ حاصل کرلیا جائے گا جس میں 39 فیصد قابل کاشت علاقہ ہیں ۔ سی پی آئی ایم کی چھ ماہ طویل عوامی تحریک کے دوران عوام کو مودی حکومت کی غریب دشمن اور مخالف کسان پالیسیوں سے واقف کروایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT