Wednesday , February 20 2019

بی جے پی رکن اسمبلی یوپی کے اسلام بمقابلہ بھگوان تبصرے کی کانگریس اور سی پی آئی کی مذمت

نئی دہلی ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس اور سی پی آئی نے آج بی جے پی رکن اسمبلی اترپردیش کے اسلام بمقابلہ بھگوان تبصرے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کسی نعرے پر منعقد کرنے کا رکن اسمبلی کا تبصرہ برسراقتدار پارٹی کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اور انتخابی فوائد کیلئے صورتحال کو زہریلا بنانے کی کوشش ہے۔ بجریہ کے رکن اسمبلی سریندر سنگھ (بی جے پی) نے کہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات پاکستان بمقابلہ بھارت کے موضوع پر لڑے جائیں گے۔ جاریہ ہفتہ قبل ازیں انہوں نے اپنی پارٹی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کا اناؤ عصمت ریزی مقدمہ میں دفاع کیا تھا۔ کل ہند مہیلا کانگریس کی صدر سشمیتادیو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سے بی جے پی کے قائدین کا کردار اور خواتین کے سلسلہ میں بھگوا پارٹی کی پرتعصب سیاست کی نشاندہی ہوتی ہے۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈی راجہ نے سشمیتادیو کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ بی جے پی فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کی صف بندی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ پرستی اور مذہبی خطوط پر ماحول کو زہریلا بنا رہی ہے اور واضح طور پر اس کا مقصد اس سے انتخابی فوائد حاصل کرنا ہے۔ بلیا میں ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے سریندر سنگھ نے کہا تھا کہ 2019ء کے عام انتخابات پاکستان بمقابلہ بھارت، اسلام بمقابلہ بھگوان کے نعرے پر لڑے جائیں گے۔ اور آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسلام جیتے گا یا بھگوان۔

TOPPOPULARRECENT