Tuesday , December 11 2018

بی جے پی سے اتحاد توڑدینے شیوسینا کااعلان ، انتخابات میں تنہا مقابلہ

شیوسینا قومی عاملہ اجلاس میں متفقہ طورپر قرارداد منظور ، اُدھو ٹھاکرے دوبارہ صدر منتخب ،وزیراعظم مودی پر تنقید
ممبئی ۔ 23جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے آج ایک قرارداد منظور کی جس میں اپنی قدیم حلیف پارٹی بی جے پی سے اتحاد توڑنے کا اعلان کیا گیا ہے۔پارٹی نے آئندہ سال لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس قرارداد کو شیوسینا ایم پی سنجے راوت نے پیش کیا جن کاکہنا تھا کہ بی جے پی نے گزشتہ 3 سال سے شیوسینا کی توہین کی ہے۔اس قرارداد کو پارٹی کی قومی عاملہ اجلاس میں متفقہ طورپر منظور کیاگیا۔ راوت نے کہا کہ میں شیوسینا کے لئے یہ قرارداد پیش کرتا ہوں تاکہ آنے والے لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات کا تنہا مقابلہ کیا جائے ۔ 2019 ء میں شیوسینا اپنے بل پر انتخابات لڑیگی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی لوک سبھا کی کم از کم 25 اور اسمبلی کی 125 نشستوں پر کامیابی حاصل کریگی۔ مہاراشٹرا میں لوک سبھا کی جملہ 48 نشستیں ہیں جبکہ 288 رکنی اسمبلی ہے ۔ بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ ہندوتوا کے نام پر اتحاد کیا تھا ۔شیوسینا نے ہندوتواکیلئے اپنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیاہے۔ تاہم بی جے پی نے گزشتہ تین سال کے دوران شیوسینیا کی توہین کی ہے اور ایسا کرنے کے لئے اپنے اختیارات کااستعمال کررہی ہے ۔ شیوسینا کے سینئر لیڈروں نے سنجے راوت کی قرارداد کی حمایت کی ۔ شیوسینا نے داخلی انتخابات کروائے ہیں تاکہ پارٹی صدر کا انتخاب کیا جاسکے۔ آج پارٹی نے اُدھو ٹھاکرے کو دوبارہ اپنا صدر منتخب کیا ۔ اُدھو ٹھاکرے نے اپنے پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کے بشمول بی جے پی قیادت پر شدید تنقید کی ۔ نتن گڈکری نے حال ہی میں ملک کی بحریہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ممبئی میں ترقیاتی پراجکٹس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے ۔اُدھو ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ نتن گڈکری نے بحریہ کے بارے میں ایسا کہا ہے ۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ سرحد پر لڑتے رہیں لیکن ہمارے پاس کوئی غلام نہیں ہے کہ جب کوئی سرجیکل اسٹرائیک ہوجائے تو اس کا سہرا اپنے سر لے سکیں۔ اُدھو ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ ملک کی مرکزی اعلیٰ قیادت میں تکبر و گھمنڈ آچکا ہے۔ اب عوام کے اندر عام رائے یہ پائی جاتی ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسا لیڈر ہے جو صرف بیرونی مہمانوں کے ساتھ احمدآباد میں پتنگ بازی میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ آخر ان بیرونی دورہ کرنے والے لیڈروں کو صرف گجرات ہی کیوں لیجایا جاتا ہے ۔ انھیں کشمیر یا دیگر ریاستوں کا دورہ کیوں نہیں کروایا جاتا ۔ اُدھو ٹھاکرے نے مودی اور مرکزی حکومت کے دیگر قائدین پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ آنے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کا تنہا مقابلہ کریں گے ۔ ٹھاکرے نے بی جے پی قیادت سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ مبینہ طورپر عوام سے جھوٹے وعدے کررہی ہے ۔ اب ہندوستان میں ایک گائے کو ہلاک کرنا جرم ہے اور کیوں نہ یہاں جھوٹ بولنے کو بھی جرم قرار دیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ آخر اس ملک کیا ہوگا اور یہ ملک کس سمت میں جائے گا ۔ جب انتخابات آتے ہیں تو تب ہی ’’اچھے دن ‘‘ کے بارے میں سنتے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ ہم پیچھے جارہے ہیں یا آگے ؟ کیوں کہ یہاں صنعتیں بند ہورہی ہیں اور نوجوانوں کیلئے کوئی روزگار نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT