Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی سے اتحاد کے الزامات مسترد: محمود علی

بی جے پی سے اتحاد کے الزامات مسترد: محمود علی

مہا کوٹمی کو شکست کا خوف لاحق، چیوڑلہ میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم سے محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ٹی آر ایس۔ بی جے پی اتحاد کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم شکست کے خوف سے اس طرح کی نچلی سطح کی سیاست پر اُتر آئے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ کے سی آر نے ٹی آر ایس کے قیام سے لیکر آج تک بی جے پی سے کسی بھی موقع پر مفاہمت نہیں کی اور مستقبل میں بھی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مہا کوٹمی کو اپنی شکست صاف دکھائی دے رہی ہے لہذا وہ مسلمانوں کو بی جے پی سے خوفزدہ کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج چیوڑلہ میں وزیر ٹرانسپورٹ پی مہیندر ریڈی کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا تلنگانہ میں صفایا کرنے والی شخصیت کے سی آر ہیں جنہوں نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں تلنگانہ میں فرقہ پرست طاقتوں کو اُبھرنے نہیں دیا۔ بی جے پی ایک رکن پارلیمنٹ اور 5 ارکان اسمبلی رکھنے کے باوجود گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بری طرح ناکام ہوگئی جس کا سہرا کے سی آر کے سر جاتا ہے ۔ تلنگانہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں کو سر اُبھارنے کا موقع نہیں دیا گیا اور ریاست فسادات سے پاک ہوگئی۔ کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں ہر سال حیدرآباد میں فساد معمول بن چکا تھا لیکن کے سی آر نے حیدرآباد کو امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے شہر میں تبدیل کردیا۔ حیدرآباد اب دنیا بھر میں فسادات کیلئے نہیں بلکہ ترقی، بھائی چارہ اور سیاحت کیلئے جانا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کو مسلمانوں سے محض زبانی ہمدردی ہے اور انہوں نے کبھی بھی عملی قدم نہیں اٹھائے۔ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے والی ان جماعتوں نے 56 برسوں میں کبھی بھی تحفظات کی فراہمی کا وعدہ نہیں کیا۔ محمود علی نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم کو جواب دینا چاہیئے کہ انہیں اُسوقت مسلم تحفظات کا خیال کیوں نہیں آیا جب وہ اقتدار میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام کے بعد کے سی آر نے 2002 میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا اور کانگریس سے مفاہمت کے وقت 2004 میں اسے انتخابی منشور میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے وعدہ میں آج بھی سنجیدہ ہیں۔ صرف انتخابات کے وقت وعدے کرنے پر کے سی آر یقین نہیں رکھتے بلکہ وہ وعدوں پر عمل آوری چاہتے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں تحفظات بل کی منظوری کے بعد مرکز کو روانہ کیا گیا اور مرکز سے مسترد کئے جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر 12 فیصد تحفظات کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ جب ٹاملناڈو میں 68 فیصد تحفظات پر عمل کیا جارہاہے تو تلنگانہ میں کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کے سی آر کو حقیقی معنوں میں سیکولر اور مسلم دوست قرار دیا اور کہا کہ ایک مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرتے ہوئے ملک بھر میں مثال قائم کی گئی ہے۔ کانگریس نے 68 سالہ دور اقتدار میں کسی مسلمان کو یہ عہدہ نہیں دیا اس کے علاوہ کسی مسلمان کو وزارت مال کا قلمدان دیا جانا اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد اقلیتی بہبود کے بجٹ کو 2000 کروڑ کیا گیا ہے جبکہ سابقہ حکومتوں میں یہ بجٹ صرف 39 کروڑ تھا اور وہ بھی مکمل خرچ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسلامک کلچرل سنٹر، جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر، اجمیر میں رباط اور درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کی ترقی جیسے فیصلوں کی مثال پیش کی۔ محمود علی نے کہا کہ کانگریس اور تلگودیشم کبھی بھی تلنگانہ کے ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ وہ پھر ایک بار تلنگانہ پر آندھرائی طاقتوں کا اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ جلسہ عام سے ریاستی وزیر مہیندر ریڈی کے علاوہ مقامی ٹی آر ایس قائدین نے مخاطب کیا۔

TOPPOPULARRECENT