Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / بی جے پی سے امکانی دوستی پر ٹی آر ایس قائدین کا ملا جل ردعمل

بی جے پی سے امکانی دوستی پر ٹی آر ایس قائدین کا ملا جل ردعمل

مودی اور کے سی آر کی باہمی مداح سرائی کے بعد مختلف قیاس آرائیاں ‘ایک گروپ حامی‘ دوسرا مخالف
حیدرآباد ۔ 8۔ اگست (سیاست  نیوز) ٹی آر ایس اور بی جے پی میں امکانی دوستی کی اطلاعات پر پارٹی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پارٹی کا ایک گوشہ بی جے پی سے دوستی کا مخالف ہے جبکہ چیف منسٹر کے وفادار سمجھے جانے والے قائدین ریاست کی ترقی کیلئے بی جے پی سے دوستی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے سیاسی تجربہ کی بنیاد پر مصلحتاً مرکز سے دوستی کا فیصلہ کیا تاکہ اہم پراجکٹس کیلئے فنڈس حاصل کئے جاسکیں۔ واضح رہے کہ گجویل میں کل مختلف ترقیاتی کاموں کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم اور چیف منسٹر نے ایک دوسرے کی زبردست تعریف کی تھی جس کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ٹی آر ایس مستقبل قریب میں مرکز میں برسر اقتدار این ڈی اے کا حصہ بن جائے گی۔ مبصرین کے مطابق بی جے پی برسر اقتدار ریاستوں میں پارٹی کے کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کو این ڈی اے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے تاکہ 2019 ء عام انتخابات میں بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حلیف جماعتوں کی مدد سے حکومت تشکیل دی جاسکے۔

آندھراپردیش کی مضبوط علاقائی جماعت اور برسر اقتدار پارٹی تلگو دیشم پہلے ہی این ڈی اے میں شامل ہے اور بی جے پی کی نظر تلنگانہ کی برسر اقتدار پارٹی پر ہے جو ریاست میں کافی مضبوط موقف رکھتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ ریاست کا دورہ کیا، تاہم نریندر مودی اور چندر شیکھر راؤ 7 برسوں بعد ایک اسٹیج پر نظر آئے۔ حالانکہ اسٹیج کی نوعیت مختلف تھی۔ 10 مئی 2009 ء کو کے سی آر نے ٹی آر ایس کے صدر کی حیثیت سے لدھیانہ پنجاب میں منعقدہ این ڈی اے کی ریالی میں شرکت کی تھی۔ اسٹیج پر نریندر مودی کے علاوہ نتیش کمار اور شرد یادو بھی موجود تھے۔ ٹی آر ایس نے جو تیسرے محاذ کا حصہ تھی، اس نے این ڈی اے کی ریالی میں شرکت کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے بی جے پی کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم بعد میں اس نے باقاعدہ طور پر این ڈی اے میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

گجویل میں کے سی آر اور نریندر مودی سرکاری نوعیت میں ایک اسٹیج  پر موجود تھے لیکن جس انداز میں دونوں نے ایک دوسرے کی تعریف کی، اس سے اس بات کا اشارہ مل رہا تھا کہ سیاسی طور پر دونوں جماعتوں کی قربت بڑھ سکتی ہے۔ کے سی آر نے حیرت انگیز طور پر تعریفی جملہ ادا کیا کہ 40 سال کے سیاسی تجربہ میں انہوں نے اس طرح کی حکومت نہیں دیکھی جو کرپشن سے صد فیصد پاک ہے۔ کے سی آر نے نریندر مودی کو خوش کرنے کیلئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ دیگر ریاستوںکی طرح 50 ہزار کروڑ یا ایک لاکھ کروڑ کا مطالبہ نہیں کریں گے

بلکہ وہ صرف تلنگانہ کیلئے نریندر مودی کی محبت اور آشیرواد چاہتے ہیں۔ نریندر مودی نے جوابی طور پر کے سی آر کی تعریف کی اور کہا کہ جب کبھی چیف منسٹر نے ان سے ملاقات کی تو ریاست کی ترقی ان کے پیش نظر رہی۔ ہر گھر کو پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیم میں چیف منسٹر کی خصوصی دلچسپی کی نریندر مودی نے ستائش کی ۔ گجویل کے جلسہ عام کے بعد چیف منسٹر اور ان کے قریبی ساتھیوں کی نظر لال بہادر اسٹیڈیم کے جلسہ عام پر تھی جس کا اہتمام بی جے پی نے کیا تھا ۔ اس جلسہ عام میں مقامی بی جے پی قائدین نے اگرچہ پارٹی کو تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا متبادل قرار دیا لیکن نریندر مودی نے اپنی طویل تقریر میں ٹی آر ایس یا ریاستی حکومت پر کوئی تنقید نہیں کی۔ اس کے بعد چیف منسٹر اور ان کے ساتھیوں نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ انہیں امید ہے کہ وزیراعظم نے تلنگانہ کیلئے دلی دور نہیں اور ’’دلی کی حکومت آپ کی حکومت‘‘ کا جس طرح تیقن دیا ہے ، اس سے مرکز سے فراخدلانہ امداد کے امکانات روشن ہوچکے ہیں۔ بی جے پی سے دوستی کی مخالفت کرنے والے قائدین اور کارکنوں کا ماننا ہے کہ مرکز سے فنڈس کے حصول کیلئے سیکولرازم کو کمزور نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اگر بی جے پی سے دوستی کرلی جائے تو تلنگانہ میں وہ نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ روایتی گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول متاثر ہوگا۔ ان قائدین کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے مقابلہ تلنگانہ میں بی جے پی شدت کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں میں دوستی کے اس نئے آغاز کا انجام کیا ہوگا ؟

TOPPOPULARRECENT